Language : ENGLISH
 
 
سرمایہ دارانہ استعمار مخالف مہم جماعت اسلامی ہند رمورخہ ۱۱ ڈسمبر ۲۰۰۹ تا ۲۱ ڈسمب
۲۰۰۹’’دوسرے ملکوں پر زور زبردستی یا مکر وفریب اور دھاندلی کے ذریعہ قبضہ اور وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف زبردستی اپنے من پسند سیاسی و معاشی فیصلے تھوپنے کے عمل کو استعمار کہتے ہیں۔‘‘ تاریخ کے ہر دور میں طا قتور قوموں نے کمزور قوموں کا استحصال کیا ہے۔ ماضی قریب میں برطانیہ، فرانس، اٹلی،ہالینڈ، پرتگال، روس وغیرہ نے ایشیا اور افریقہ کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔ سفید فام یوروپی اقوام نے بر اعظم امریکہ کے مختلف علاقوں پر قبضہ کیا اور مقامی عوام کو غلام بنا لیا۔یہ سب استعمار اور استعماری ہتھکنڈوں کی مثالیں ہیں۔ ۔۔اب جبکہ انسانی شعور بیدا رہو چکا ہے اور کسی بھی ملک کے لئے ، دوسرے ملک پر قبضہ ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ہوگیا ہے، استعمار نے بھی اپنا روپ بدل دیا ہے۔اب راست ممالک پر قبضہ نہیں کیا جاتا ۔بظاہر حکمران مقامی ہی ہوتے ہیں۔ اکثر عوام کے ذریعہ منتخب حکمران ہوتے ہیں۔لیکن دھونس ، دھاندلی،فریب، لالچ اور بلیک میلنگ کے مختلف طریقوں کو اختیار کرکے استعمار مقامی حکمرانوں ہی کے ذریعہ عوام دشمن پالیسیاں ملک پرمسلط کرتا ہے۔ جدیدسرمایہ دارانہ استعمار کا اصل مقصد دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا اور دولت کی طاقت سے دنیا کو غلام بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے استعمار مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔ سیاسی محاذ پر وہ ملکوں اور قوموں پر اپنے پٹھو حکمران مسلط کرتا ہے، ان کے ذریعہ اپنی پالیسیاں وہاں کے عوام پر تھوپتاہے۔ مقامی معیشتوں کو تباہ کر کے بڑی کمپنیوں اور سرمایہ داروں کے لیے راہیں ہموار کرتاہے۔ قدرتی وسائل کو لوٹتا ہے۔ قبائل اور مقامی آبادیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرتا ہے۔ جو قومیںاستعمار کی اس راہ میںمزاحم ہوتی ہیں، ان پر فوجی کاروائی کرتا ہے اور فوجی طاقت کے بل بوتے پرانہیں تباہ وتاراج کرتا ہے۔ اس کے لئے استعمار کے پاس مختلف طریقے موجود ہیں۔ وہ پسماندہ قوموں کو ترقی اور گروتھ کے خواب دکھاتا ہے۔ انہیں قرضوں کے جال میں پھنساتا ہے۔ مصنوعی طور پر پیدا شدہ مالیاتی بحرانوں سے نکلنے اور ترقیاتی کاموں کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے اداروں سے مشروط قرضے فراہم کراتاہے۔ ان شرائط میں بیرونی کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت، بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت، غریبوں کو دی جانے والی رعایتوں میں کمی، تعلیم اور صحت جیسے سماجی امور میں خرچ میں کمی، سرکاری اداروں کو خانگیانا وغیرہ جیسی شرائط شامل ہوتی ہیں۔ ان شرائط کی وجہ سے دھیرے دھیرے ملک کی دولت اور اسکے وسائل عالمی سرمایہ داروں کے قبضہ میں چلے جاتے ہیں۔ملٹی نیشنل کمپنیاں اس لوٹ کا اصل ذریعہ ہوتی ہیں۔ میڈیا ،پروپگنڈہ اور اشتہارات کی قوت کے ذریعہ اس کام میں سرمایہ داروں کی مدد کرتا ہے۔ اور ملک کے عوام کو غلامی اور غریبی کے عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ سرمایہ دارانہ استعمار کے خلاف جماعت اسلامی ہند کی مہم کا اصل مقصدسرمایہ دارانہ استعمار کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا اور متبادل پالیسیوں کی طرف حکومت اور عوام کو متوجہ کرنا ہے۔ سرمایہ دارانہ استعمار اور ہندوستان ان پالیسیوں کے نتائج اسلام ایک متبادل

سرمایہ دارانہ استعمار اور ہندوستان <<
ان پالیسیوں کے نتائج <<
اسلام ایک متبادل <<

سرمایہ دارانہ استعمار اور ہندوستان 1991میں ہمارے ملک میں شدید مالیاتی بحران پیدا ہوا۔ اس بحران سے نکلنے کے لئے حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی پالیسیوں کو قبول کیا اور ہمارا ملک بھی آزاد کاری کی اس راہ پر گامزن ہوا جس کا نتیجہ استعماری قوتوں کا آلہ کار بننے اور غلامی اور غریبی کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ چنانچہ ہمارے پالیسی سازوں نے زراعت اور دیہی معیشت پر توجہ کم کردی ۔ فلاحی اور رفاہی کاموں پر خرچ کم کرنے کی پالیسی اختیار کی۔بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت دینی شروع کی جس کے نتیجہ میں چھوٹی صنعتیں متاثر ہونے لگیں۔پبلک سیکٹر کی بڑی بڑی کمپنیوں کو خانگیانے کا عمل شروع کیا جس سے روزگار کے مسائل پیدا ہونے لگے۔کرانہ فروشی، سبزی فروشی جیسی غریبوں کی تجارتوں کو بڑی کمپنیو ں کے لئے کھول دیا گیا۔ عوامی دولت کا استعمال زیادہ تر بڑے شہروں کی خوبصورتی اور کمپنیوں کے لئے درکار سہولتوں (انفرا اسٹرکچر) کے لئے کیا جانے لگا۔اشتہارات وغیرہ کے ذریعہ عالمی برانڈز کا شوق پیدا کیا گیا اور فضول خرچی اور صارفیت کے رجحانات کو فروغ دیا گیا۔سودی قرضوں اور سٹہ بازی کو عام کیا گیا۔ غرض یہ کہ ساری پالیسیاں بڑے تاجروں اور عالمی کمپنیوں کے مفادات کو سامنے رکھ کر بنائی جانے لگیں۔ اور غریب عوام پر مشتمل ملک کی اکثریت کو نظرانداز کیا جانے لگا۔

ان پالیسیوں کے نتائج ان پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک میں دولت کی ریل پیل تو بڑھی ہے لیکن یہ دولت غیر منصفانہ طور پر چند امیر لوگوں کے ہاتھوں میں مرکوز ہورہی ہے۔اس سے ملک کے غریبوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ہمارا ملک جی ڈی پی میں ترقی کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور امیر ترین ارب پتیوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں چوتھے نمبر پر اور ایشیا میں پہلے نمبر پرہے لیکن انسانی ترقی کے اعتبار سے ہم دنیا میں 134نمبر پر ہیں۔یعنی دولت میں اس زبردست اضافہ کے باوجود عوام کی عظیم اکثریت کی حالت بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے۔ یہ پالیسیاں زراعت اور دیہی معیشت کو متاثر کر رہی ہیں۔ہمارے ملک کی دو تہائی آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔دیہی معیشت کے متاثر ہونے کا مطلب اس عظیم اکثریت کو غربت و افلاس سے دوچار کرنا ہے۔پلاننگ کمیشن کے مطابق جس زمانہ میں ہمارا جی ڈی پی نو تا دس فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہا تھا اسی زمانہ میں زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح محض 4 فیصد تھی جوگذشتہ سال(2008-09) گھٹ کر صرف1.8 فیصد رہ گئی۔ز رعی انفرااسٹرکچر میں ہمارا خرچ محض 20 فیصد ہے۔ ترقی کے اس روشن دور میں ہر سال 17500 کسان خودکشی کررہے ہیں! ان پالیسیوں کے نتیجہ میں ہماری ترجیحات کا رخ بدل رہا ہے۔ صحت عامہ کی صورت حال کے اعتبار سے ہمارا ملک دنیا کے بد ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ہر سال ہمارے ملک میں ۵۶ لاکھ بچے مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے مرجاتے ہیں ۔ یہ تعداد دنیا بھر میں مرنے والے بچوں کی تعداد کے نصف سے زیادہ ہے۔لیکن اس کے باوجود جی ڈی پی کے تناسب سے عوامی صحت پر خرچ کے اعتبار سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 175 ملکوں کی جو فہرست بنائی ہے اس میں ہمارا نمبر نیچے سے پانچواں ہے۔تعلیم جیسے اہم ترین محاذ پر ہمارا خرچ آمدنی کے تناسب سے افریقہ کے کئی غریب ملکوں سے بھی کم ہے۔ ادیباسیوں، غریبوں اور دیہاتیوں کو ان کی زمینوں سے بے گھر کیا جارہا ہے۔آزادی کے بعد سے اب تک چھ کرور لوگوں کو بے گھر کیا گیا جن میں سے 80فیصد کی بازآبادکاری بھی نہیں کی گئی۔ اسپیشل زونس کے نام پر لوگوں کو بے گھر کرنے کے علاوہ، ورکرز کے حقوق کی پامالی ہورہی ہے اور سرمایہ داروں کو ملک کے اندر نیم آزاد ریاستیں قائم کرنے کی اجازت مل رہی ہے۔ لوگوں کے اندر فضول خرچی اور صارفیت کے رجحانات پروان چڑھائے جارہے ہیں۔ جن سے قرضوں کا بوجھ، معیار زندگی کی کشمکش، تناو اور نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں۔ تعلیم مہنگی ہورہی ہے۔ غریبوں کے لئے اعلی تعلیم دشوار تر ہوتی جارہی ہے۔ کارپوریٹ تعلیم اورتعلیم میں بیرونی سرمایہ کاری کے نتیجہ میں تعلیم کا عمل صرف بڑی کمپنیوں کے لئے درکار انسانی وسائل کی تیاری تک محدود ہورہا ہے۔اور تعلیم کا رشتہ ہماری سماجی ضرورتوں اور اخلاقی و روحانی قدروں سے کمزور ہوتا جارہا ہے۔ یہ پالیسیاں استعمار کے لئے تہذیبی جارحیت کی راہیں ہموار کر رہی ہیں۔ ماکولات و مشروبات سے لے کر طرز زندگی اور اخلاقی تصورات تک، ہر جگہ مغربی تہذیبی قدریں عام ہورہی ہیں۔اور اخلاق باختگی اور بے راہ روی کی جس صورت حال نے مغربی معاشروں کو کھوکھلا کردیا ، وہ صورتحال ہمارے ملک میں بھی عام ہورہی ہے۔ استعمار نے عورت کو محض ایک جنسی کھلونے اور اشتہار کے آلہ میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ اور تجارتی اغراض کے لئے عورت اور اس کے جسم کے استحصال نے عورتوں پر بدترین مظالم کی راہیں ہموار کی ہیں۔ اس نظام کی دین ماحولیاتی بحران ہے۔آج صورت حال یہ ہے کہ نہ ہمارا پانی محفوظ ہے نہ ہوا۔ ماحولیاتی بحران نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اور بنی نوع انسان کی بقا خطرہ میں ہے۔ سرما یہ دارانہ استعمار کا آلہ کار بننے کے نتیجہ میں ہمیں اپنی روایتی منصفانہ اور قائدانہ خارجہ پالیسی سے دستبردار ہونا پڑ رہا ہے اور بڑی طاقتوں کی چیرہ دستیوں ، جارحیت اور مظالم کا ساتھ دینا پڑ رہا ہے جو ہمارے ملک کے وقار ، خود مختاری اور اس کی عظیم تاریخی روایات کے خلاف ہے۔

اسلام ایک متبادل ہم اس پس منظر میں اسلام کی تعلیمات کو عدل و اعتدال پر مبنی ایک بہتر متباد ل کی حیثیت سے اہل ملک کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اسلام کی تعلیمات دولت کی پیداوار کے لئے بھی راہیں ہموار کرتی ہیں اور اس کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ اسلام کا نعرہ عدل ہے۔عدل میں آزادی، مساوات اور گروتھ بھی شامل ہے۔ لیکن یہ قدریں غیر مشروط نہیں ہیں بلکہ عدل کے تقاضوں کے ماتحت ہیں۔ نظام سرمایہ داری ،سرمایہ اور معاشی ترقی کو آگے اور انسان کو پیچھے رکھتا ہے۔جبکہ اسلام کے نزدیک انسان اصل ہے۔ اور سرمایہ اور ترقی محض انسان کی خدمت کے لئے ہے۔ چنانچہ ترقی اور گروتھ سے پہلے انسانیت اور اس کے تقاضے مقدم ہیں۔ اسلام کے نزدیک ، حکومت تمام شہریوں کی کفالت کی ذمہ دار ہے۔ ہر شہری کو غذا کپڑا، مکان اور علاج کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔’ضروریات زندگی کا حق۔ Right to Livelihood اسلام کے مطابق بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔عوام کی کفالت کو ہماری ترجیحات میں پہلا مقام ملنا چاہیے۔ معاشی پالیسی کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہونا چاہیے کہ مال دولت مندوں کے درمیان گردش نہ کرے بلکہ دولت مندوں سے غریبوں کی طرف جائے۔صرف شمولیتی ترقیInclusive Growth کافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ غریبی اور امیری کا تفاوت بتدریج کم ہوتا رہے۔ اسلام کے مطابق ضروریات زندگی کی فراہمی تعیشات اور آسائشوں پر مقدم ہے۔اس لئے شہروں کو چمکانے اور دیگر تعیشات کی فراہمی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ عوام کی بنیادی ضروررتیں پوری کی جائیں ۔ اسلام کے مطابق تعلیم اور صحت جیسے کام حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ حکومت ان ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوسکتی۔ اسلام سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں مالیاتی نظام میں ٹہراو پیدا ہوتا ہے۔ دولت کا ارتکاز اور غریبوں سے امیروں کی طرف اس کا بہاو رکتا ہے۔ اسلام سٹہ بازی کی ممانعت کرتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں کارآمد معاشی سرگرمیوں کے لئے مالیہ دستیاب رہتا ہے۔ اور مال کا استعمال غیر نفع بخش کاموں میں نہیں ہوتا۔ اسلام کا زور سادگی اور فطرت سے ہم آہنگی پر ہے۔ رسول کریم کا حکم ہے کہ دریا کے کنارے بھی بیٹھو تو پانی کم خرچ کرو۔ اس طرز زندگی سے صارفیت اور ماحولیاتی بحران کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ہم ملک کے تمام انسانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اسلام کی ان تعلیمات پر غو کریں۔ اسلام ہم سب کے پیدا کرنے والے کی پسند اور اس کی مرضی کا نام ہے۔اسلام اس ملک کے قومی ورثہ کا اہم جز اور حصہ ہے۔ یہ صرف مسلمانوں کی میراث نہیں ہے بلکہ اس پر سب انسانوں کا حق ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ملک کی پایسی سازی میںاسلام کے ان زریں اصولوں کا لحاظ رکھا جائے تاکہ ترقی کے فائدے سماج کے تمام انسانوں کو ملیں۔ غربت، فاقہ، مرض و جہالت دور ہو۔اور ہمارا ملک ترقی و خوشحالی کے ساتھ مساوات اور عدل کا گہوارہ بنے اور ساری دنیا کے لئے مثال اور فلاح و بہبود کے کامل ترین ماڈل کی حیثیت میں ابھر سکے۔



 

 

   
   
استعمار اور گلوبلائزیشن
استعمار اور ماحولیاتی بحران
استعمار اور سماجی تفریق
استعمار کا ترقیاتی ماڈل
استعمار اور صارفیت
استعمار اور خواتین
کارپوریٹ میڈیا
استعمار اور مالیاتی استحصال
استعمار اور تعلیم
تعلیم اور نو استعماریت
استعمار اور سیاست

تراے

|

اہم پروگرام

|

امیر جماعت کا پیغام

|

مہم کے مطالبات

|