سرمایہ دارانہ استعمار اور خواتین
 
 

سرمایہ دارانہ استعمار کے ظلم اور چیرہ دستیوں کا شکار دنیا کے تمام کمزور طبقات ہوتے ہیں۔ استعمار کی اصل ہی یہ ہے کہ وہ اپنے فائدہ کے لیے کمزور طبقات کا استحصال کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ استعمار یہ استحصال مالی منفعت اور دولت کے لیے کرتا ہے۔

 غریب ممالک، ساری دنیا کے غریب عوام، ادیواسی، پچھڑے طبقات، دیہی عوام وغیرہ کے ساتھ سرمایہ دارانہ استحصال کا شکار ایک اہم کمزور طبقہ دنیا بھر کی خواتین کا طبقہ ہے۔ مالی منفعت اور دولت کی ہوس میں سرمایہ دارانہ استعمار، خواتین کو طرح طرح کے مظالم کا شکار بناتا ہے۔ ان پر دوگنے اور تین گنے کاموں کا بوجھ ڈالتا ہے۔ ان کی جسمانی اور جذباتی ضرورتوں کا لحاظ کیے بغیر ان سے مشین کی طرح کام لیتا ہے۔ ان  کے جسم اور حسن کو قابل فروخت بنا دیتا ہے اور منڈیوں میں ان کی بولی لگاتا ہے۔ ان پر جنسی مظالم کرتاہے۔ اپنی مصنوعات فروخت کر نے کے لیے ان کا جذباتی ، مالی اور جسمانی استحصال کرتا ہے۔عورت جتنی مظلوم قدیم روایتی معاشروں میں تھی، اس سے کہیں زیادہ مظلوم جدید سرمایہ دارنہ معاشرہ میں ہے۔ وہاں بھی اس کے لیے عرصہ حیات تنگ تھا اور یہاں بھی اس کے لیے عرصہ حیات تنگ ہے۔ وہاں بھی وہ قدیم سماجی رواجوں کے آگے مجبور تھی اور خاموشی سے ظلم کی چکی میں پسی جاتی تھی اور یہاں بھی جدید تہذیبی معیارات کے آگے وہ مجبور ہے۔ اور ظلم کی چکی میں پسی جاتی ہے۔سماج کے دیگر مظلوم طبقات (دیہی عوام، غریب عوام، ادیباسی وغیرہ) کی داورسی کے لیے سوشلسٹ اور دیگر تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ لیکن خواتین کا سچا خیر خواہ کوئی نہیں ہے۔ عورتوں کے استحصال میں سرمایہ داراور سوشلسٹ دونوں برابر ہیں۔ اور جو نسائی تحریکیں ان کی دادرسی کی دعویدار ہیں وہ سب سے زیادہ ا س ظلم کے لیے راہیں ہموار کرتی ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ عورت کو سکون صرف اسلام کے سایے میں ملا تھا۔ اور آئندہ بھی صرف اسلام ہی ان کا نجات دہندہ بن سکتا ہے۔
 
 
 

کیرئیرازم، کام کا دباو اور استحصال

عورتوں کو مارکٹنگ کا ذریعہ اور نسوانی ...

فیشن اور کاسمیٹکس

صارفیت اور معاشی دباو

اسلا م کا موقف

..خواتین کے کیریر اور معاشی مصروفیت سے

عورت پر کوئی معاشی ذمہ داری نہیں ہے

گھر عورت کی اصل ذمہ داری ہے

معاشی مصروفیت کی اجازت مشروط ہے

پورنوگرافی اور فحاشی سے متعلق

حسن اور میک اپ سے متعلق