اللہ تعالیٰ نے عورت کو تقدس اور پاکیزگی عطا کی تھی سرمایہ دارانہ استعمار نے ا س کے جسم کو اپنی تجارت چمکانے کا ذریعہ اور ایک قابل فروخت شئے بنا دیا ہے۔
اس بے ہودے کھیل میںاستعمار کا سب سے بڑا مدد گار اس کا وفادار میڈیا ہے۔ اخبارات، رسالے، ٹی وی، فلم، انٹر نیٹ ہر جگہ عورت ایک ہی روپ میں نظر آتی ہے۔ایک خوبصورت اور دلربا حسین کھلونے کے روپ میں۔ جس طرح کھلونا دل بہلانے کی ’’شئے‘‘ ہے اسی طرح عورت کا جسم بھی دل بہلانے کی ’’شئے ‘‘ہے۔ اس کے جسم کو زیادہ سے زیادہ عریاں رکھا جاتا ہے۔ خوب تزئین وآرائش کی جاتی ہے۔ہر طرح کی چیزوں کی تشہیر اور فروخت کے لئے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک خوبصورت ریسیپشنسٹ فرنٹ آفس کے دلکش انٹیریر کا لازمی جز ہے۔پرسنل سکریٹریوں سے بوسے کرانا کارپوریٹ پارٹیوں کے آداب میں شامل ہے۔عورت کی تصویر کے بغیر کوئی اشتہار مکمل ہی نہیں ہے۔
اگر عورت امریکہ کی سکریڑی آف اسٹیٹ بھی بن جائے تو اس کا جسم، ڈریسنگ اور فیشن ہی قابل توجہ ہے۔ حالیہ دنوں ، ہلاری کلنٹن اور صدر امریکہ کی بیوی مشل اوبامہ کے لباس، حسن اور اسٹائل وغیرہ جس طرح دنیا بھر کے اخبارات میں موضوع بحث رہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت چاہے کچھ بھی بن جائے ، وہ اس جنس زدہ دنیا کے لئے بس ایک خوبصورت کھلونا ہی ہے۔
پوری ڈھٹائی سے خواتین کو القابات بھی جنس زدہ دئیے جاتے ہیں۔آوارہ نوجوانوں کی خواتین پر فقرہ بازی کی عادت کو ساری مہذب دنیا نے اپنا لیا ہے۔ "Sexy" ، "Bimbos" (احمق حسینہ ) Hos (ایک طرح کی گالی) جیسے فقرے ، جدید پڑھی لکھی لڑکیوں کے لئے ،اب ہمارے ملک کے اخباروں میں بھی بے تکلف استعمال ہونے لگے ہیں۔