مطالبات

 
 

عوام کے درمیان مذکورہ امورکے سلسلہ میں بیداری لانے کے ساتھ ساتھ ہمیں حکومت پر مندرجہ ذیل مطالبات کے لئے دباو دالنا چاہیے۔
۱۔ خواتین کے کام کی حالتWork Conditions اور کام کی جگہوں کی صورت حال کو منضبط کرنے کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے اور ان قوانین کو تمام کمپنیوں پر سختی سے نافذ کیا جانا چاہیے۔ کام کی جگہوں پر خواتین کو پرائیویسی ملنی چاہیے اور ان کی نسوانی ضرورتوں اور کمزوریوں کی پوری رعایت ہونی چاہیے۔
۲۔ پورنو گرافی، عریاں لٹریچر، ویب سائٹس وغیرہ پر سخت پابندی عائد ہونی چاہیے۔ ایسی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے لئے ملکی سطح پر فائر والز کا استعمال ہونا چاہیے۔میڈ یا کو اس سلسلہ میں منضبط کرنے کے لئے، سینسربورڈ اور پریس کونسل جیسے ادروں کو اور فعال بنانا چاہییے۔اس قسم کی تجارت اور ان کے شیرز کی فروخت، ان کے لئے بنکوں سے سرمایہ کاری اوران کی تشہیر وغیرہ سب پر پابندی ہونی چاہیے۔
۳۔کاسمیٹکس کی نگرانی کے لئے ڈرگس اتھاریٹی کی طرح کا ادارہ اور قوانین بننے چاہیں اور ان قوانین کو ملٹی نیشنل کمپنوں کی درآمد شدہ پروڈکٹس پر بھی سختی سے نافذ کیا جانا چاہیے۔اسی طرح کاسمیٹک سرجری وغیرہ کو منضبط کرنے اور اس کے لئے قوانین مرتب کرنے کے لئے ماہر ڈاکٹروں،  ماہرین نفسیات وغیرہ کی کمیٹی بننی چاہییے۔
۴۔ اشتہارات کو منضبط کرنے کے لئے قوانین اور میکانزم بننا چاہییے۔اسی طرح ان ریالٹی شوز پر پابندی لگنی چاہیے ۔

 
 
 

کیرئیرازم، کام کا دباو اور استحصال

عورتوں کو مارکٹنگ کا ذریعہ اور نسوانی ...

فیشن اور کاسمیٹکس

صارفیت اور معاشی دباو

اسلا م کا موقف

..خواتین کے کیریر اور معاشی مصروفیت سے

عورت پر کوئی معاشی ذمہ داری نہیں ہے

گھر عورت کی اصل ذمہ داری ہے

معاشی مصروفیت کی اجازت مشروط ہے

پورنوگرافی اور فحاشی سے متعلق

حسن اور میک اپ سے متعلق