جدید نظام سرمایہ داری کو اپنی خدمت کے لیے کم قیمت ملازمین کی ایک بڑی فوج درکار تھی۔ اس نے میڈیا کے ذریعہ کیرئیروومینCareer Woman ،کا تصور پیش کیا۔ خاندان اور خاندانی زندگی کی اہمیت گھٹائی۔ شادی کے ادارہ کو بھی بے معنی قرار دیا اور بغیر شادی کے ساتھ رہنے "Live in relationship" اور بغیر شادی کے جنسی زندگی Casual sex جیسے رواجوں کو فروغ دیا ۔ مقصد یہ تھا کہ خواتین، خاندان اور بچوں کے جھمیلے میں پڑے بغیر اس کی خدمت کے لیے ہر دم دستیاب رہیں۔
آئی ٹی کمپنیوں، کال سنٹرز اور بی پی او انڈسٹری وغیرہ میں یہ طئے شدہ پالیسی موجود ہے کہ نچلی سطحوں کی ملازمتوں کے لیے خواتین کو ترجیح دی جائے۔ ایچ آر مینیجرز اس کی وجہ یہ بتاتے ہیںکہ خواتین مردوں کے مقابلہ میں زیادہ جم کر اور بیٹھ کر کام کرسکتی ہیں۔ دیر تک کام کرتی ہیں۔ زیادہ اطاعت شعار ہوتی ہیں۔ کم تنخواہوں پر آمادہ ہوجاتی ہیں اور چھٹیاں کم لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ٹی ای ایس ITES کمپنیوں میں جو نیئر سطحوں پر خواتین ملازمین جملہ ملازمین کے نصف سے زائد ہیں۔ جبکہ کال سنٹروں میں ان کی تعداد 35 فیصد سے زائد ہے۔ (۱)گلوبلائزیشن کے دور کی یہ کمپنیاں خواتین کی کسی ضرورت کا لحاظ نہیں کرتیں۔ پہلے ہی سے کال سنٹروں میں خواتین نائٹ شفٹوں میں رات رات بھر کام کررہی تھیں۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ (2007) اور فیکٹریزایکٹ میں مجویزہ ترمیم (۲) کے بعد رہی سہی رکاوٹ بھی ختم ہوگئی۔یہاں نہ ان کی مخصوص ضرورتوں کا خیال کیا جاتا ہے نہ حمل وغیرہ کے دوران رخصتوں سے متعلق قواعد کی پابندی ہوتی ہے۔ نہ ہی ان کے لیے پرائیویسی وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے۔رات رات بھر کام کرنے سے خواتین میں صحت کے مختلف النوع مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی ماہواریوں کا نظام بگڑتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق رات کی شفٹوں میں کام کرنے والی خواتین میں چھاتی کے کینسر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔(۳)