آزاد ہندوستان
ہمارا ملک 1947 میں یوروپی طاقتوں کی غلامی سے آزاد ہوا۔ اس آزادی کا تقاضا یہ تھا کہ اس نئے دور میں ملک کی تعمیر اس انداز میں کی جاتی کہ یہاں کے باشندوں کو سیاسی و رسمی آزادی کے ساتھ ساتھ حقیقی آزادی بھی حاصل ہوجاتی۔ اُن کے جسم اور دل و دماغ سب آزاد ہوتے اور وہ استحصال سے پاک، انصاف پر مبنی سماج کے اندر زندگی گزارسکتے۔
لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ رسمی آزادی کے بعد بھی ملک کے اندر استحصال، بے انصافی اور ظلم و جبر بدستور جاری رہا اور بعض پہلوؤں سے ان خرابیوں میں مزید شدت آگئی۔
خرابی کے اسباب
فطری طور پر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ اس صورتحال کے اسباب کیا ہیں؟
غور کیا جائے تو تین بڑے اسباب پر نگاہ جاتی ہے:
(الف) پہلا سبب یہ ہے کہ ملک رسماً تو آزاد ہوگیا لیکن بالواسطہ (چھُپے ہوئے) طریقوں سے ملک کی آزادی چھینی جاتی رہی اور یہاں باہر کی طاقتوں کی مداخلت جاری رہی۔
(ب) دوسرا سبب یہ ہے کہ کمزوروں اور مظلوموں پر جو ظلم و ستم خود اُن کے ہم وطن کررہے تھے (اور صدیوں سے کرتے چلے آرہے تھے) اُس کو روکنے کی مؤثر تدبیریں اختیار نہ کی جاسکیں۔
(ج) تیسرا اور سب سے اہم سبب یہ ہے کہ خدا پرستی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے ملک کی تعمیر نو کے لیے مادہ پرستانہ فلسفوں کو بنیاد بنایا گیا، چنانچہ حق پرستی اور کردار سازی کے تعمیری رجحانات کے بجائے اس ملک کے اندر اخلاقی بحران اور باطل افکار کو فروغ حاصل ہوا۔
پہلا سبب : نیا استعمار
دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہی دنیا دو بڑی طاقتوں (روس اور امریکہ) کے زیرِ اثر دو بلاکوں میں بٹ گئی۔ کسی ملک کے لیے یہ بات آسان نہیں رہی کہ وہ اپنا حقیقی آزاد و جود قائم رکھ سکے۔ اسے چارو ناچار اِس بلاک یا اُس بلاک کا حصہ بننا پڑا۔ ہر بلاک نے اپنے زیرِ اثر ممالک کو فوجی و معاشی معاہدوں کے ذریعے اپنے جال میں جکڑنے اور اپنا پابند بنانے کی پوری کوشش کی۔ اس طرح براہِ راست استعمار تو ختم ہوگیا، لیکن ایک ’’نیا استعمار‘‘ وجود میں آگیا جو ملکوں پر اپنا تسلط قائم رکھتا تھا۔ شروع میں پنڈت نہرو کی قیادت میں ہمارے ملک نے کوشش کی کہ آزاد رہے اور ’’ناوابستہ‘‘ تحریک برپا بھی کی۔ لیکن حالات کے دباؤ کے تحت ہمارا ملک رفتہ رفتہ ’’روسی بلاک‘‘ کا حصہ بنتا گیا۔ اس میں بڑا دخل ہندوپاک کے درمیان کشیدگی کا بھی تھا، جس نے پاکستان کو امریکی بلاک کا حصہ بننے پر مجبور کردیا تھا۔
روس کا انتشار
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اچانک حالات نے پلٹا کھایا۔ روس جیسا عظیم ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا چنانچہ روسی بلاک عملاً ختم ہوگیا۔ اور دنیا میں ایک ہی بڑی طاقت (امریکہ کی) باقی رہ گئی۔
روس کے اس انتشار کے بعد امریکہ گلوبلائزیشن، لبرلائزیشن، اور نئے عالمی نظام کے نعروں کے ساتھ میدان میں آیا اور اپنی طاقت کو منوانے کے لیے دنیا کے ہر خطے میں اس نے اپنے اثرات بڑھانے شروع کیے۔
ہمارا ملک بھی حالات کی اس نئی گردش سے متاثر ہوا۔ اس نے ’’لبرلائزیشن‘‘ کے تحت نئے معاشی اقدامات شروع کیے۔ اب تک کے معاشی قوانین اور پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں اور بیرونی سرمائے کے ملک کے اندر آنے کی راہ ہموار کی گئی۔ معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی میں تبدیلی آئی۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف جھکاؤ بڑھتا گیا اور ’’ناوابستگی‘‘ کی تحریک محض ایک رسم کے طور پر زندہ رہ گئی۔ دفاعی اور فوجی معاملات میں امریکہ اور اسرائیل سے قُربت روز بروز بڑھتی گئی۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ ہمارا ملک روسی بلاک کے بجائے اب ’’امریکی استعمار‘‘ کے زیرِ اثر آگیا۔
سرمایہ دارانہ نظام کا احیاء
لبرلائزیشن کا نیا نعرہ دراصل سرمایہ داری کے احیاء کا اعلان تھا چنانچہ پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام دوبارہ زندہ ہونا شروع ہوگیا۔ اس نئی زندگی کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کی تین بنیادی خصوصیات دوبارہ ابھر کر سامنے آنے لگیں:
(الف) استحصال
(ب) عدمِ توازن
(ج) انسانی خصوصیات سے عاری سماج کا ظہور۔
سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خاصیت استحصال ہے۔ اس میں سرمایہ دار طبقہ، مزدوروں کا استحصال کرتا ہے۔ ایک ملک کے اندر منظم طبقات، غیر منظم افراد کا استحصال کرتے ہیں۔ زیادہ باخبر اور با ہنر لوگ کم صلاحیت والوں کا استحصال کرتے ہیں۔ شہروں سے وابستہ صنعتی سیکٹر، دیہی اور زرعی سیکٹر کا استحصال کرتا ہے (چنانچہ دیہی علاقے وسائلِ حیات اور وسائلِ ترقی سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں) اور اسی طرح طاقتور ممالک کمزور ملکوں کا استحصال کرتے ہیں۔ یہ ایک ہمہ گیر ’’نظامِ استحصال‘‘ ہے جو سرمایہ داری پیدا کرتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کا دوسرا نتیجہ ’’عدمِ توازن‘‘ ہے۔ دولت سماج کے ایک طبقے کے پاس سمٹ جاتی ہے اور بقیہ افراد اس سے محروم ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ کسی مفید معاشی سرگرمی کے اہل نہیں رہتے۔ عدمِ توازن کا دوسرا پہلو قدرتی وسائل کا مسرفانہ اور بے جا استعمال ہے جس کا نتیجہ ’’فطری ماحول‘‘ کا عدمِ توازن ہے۔
ہمہ گیر استحصال کے نتیجے میں سماج میں تمام اچھی اخلاقی خصوصیات ختم ہونے لگتی ہیں۔ ہمدردی، غم خواری اور تعاونِ باہمی کے بجائے خود غرضی، لالچ اور قساوتِ قلبی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ انسان مشین بننے لگتے ہیں اور انسانی جذبات سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس طرح وہ اُس اخلاقی طاقت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں جو انہیں استحصال سے جنگ پر آمادہ کرسکتی تھی۔
یہ سرمایہ دارانہ نظام کے بھیانک نتائج ہیں اور آج پوری دنیا ان نتائج کو اپنی آنکھو ںسے دیکھ رہی ہے۔
ہمارے ملک نے سرمایہ دارانہ نظام اور امریکہ کے نئے استعمار کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیںاور اس طرح اپنی آزادی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس خطرے کی سب سے نمایاں علامت Sepcial Economic Zone (SEZ) ہیں۔