علم میں وسعت ہوتو فکرونظرمیں وسعت ہوتی ہے۔ نیت صالح ہوتو سینے میں فراخی اور ظرف میں کشادگی ہوتی ہے۔ اور ایمان خالص ہوتو وحدت ومرکزیت کی بے پناہ امنگ ہوتی ہے۔(امام غزالیؒ)
تعلیم اور علم کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ دنیا میں جس کسی بھی قوم نے ترقی کی اس نے علم کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنایا اور اپنی قومی ترقی کی وراثت کو تعلیم کے ذریعہ سے اپنی آئندہ آنے والی نسل تک منتقل کیا۔ اور جس قوم نے بھی اس وراثت کو کما حقہ منتقل نہیں کیا یا آئندہ نسل سے اسے حاصل کرنے کی اہلیت سے محروم رہی وہ قوم زوال کا شکار ہوگئی۔ چینیوںاور یونانیوں کی تہذیب سے لے کر بغداد اور قرطبہ کے یونیورسٹیز ہر کوئی اس حقیقت کے گواہ ہیں ۔ تو اس قدراثرانداز شئے سے نو استعماریت کیوں کر غافل رہ سکتی تھی۔ چنانچہ اس نے اس کا استعمال کیااور خوب کیا۔
سولہویں صدی وہ زمانہ ہے جب استعماریت اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہوئی۔ بیسویں صدی کے آغاز پر ان میں سے کئی ممالک نے آزادی کی فضا میں سانس لی اور یہ محسوس کیا کہ وہ استعمار کے خونیں پنچے سے آزاد ہوچکے ہیں لیکن کمزور سیاسی بصیرت، معدوم سیاسی، سماجی ، معاشی اور تعلیمی پس منظر نے ایک اور استعمار کی بنیاد رکھی۔
|