ان تمام تبدیلیوں کے اثرات اس نئے تعلیمی نظام پر بھی براہ راست مرتب ہوئے جو یہاں پرظہور پذیرہوا۔ یوروپی ممالک میں تو اس تعلیمی نظام نے محض انسان کو تہذیب واقدار سے دور کرنے اور مادہ کا غلام بنانے تک اکتفا کیا لیکن ہندوستان جیسے استعمار کیشکار ملک میں یہ نظام اپنی پوری حشر سامانی کے ساتھ نمودار ہوا۔
٭ سب سے پہلی ضرب ہندوستان کے روایتی تعلیمی نظام پر پڑی۔ہندوستانی تہذیب میں اسی نظام کی بڑی اہمیت تھی۔ لیکن پہلی جنگ آزادی (۱۸۵۷) کے دوران اس نظام نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ نتیجتاً یہ حکومت کا باغی ٹھہرا۔ اور ہر وہ قدر اور تعلیم جو یہاں دی جاتی تھی وہ معتوب ٹھہری۔ اس روایتی نظام میںجہاں مدارس اسلامیہ شامل تھے وہیں ہندو مذاہب کے روایتی آشرم اور تعلیم گاہیں بھی تھیں۔ ان تمام کی شدید حوصلہ شکنی ہوئی۔
٭ انگریزی اقتدار کے تحت سرکاری ملازمتیں باعث افتخار ٹھہریں اور اسکے لیے مغربی تعلیم ضروری قرار پائی لارڈ میکالے کے ذریعہ شروع کے گئے اس تعلیمی نظام نے ملک کے اہم مقامات پر حکومتی سرپرستی میںکئیکالجس کھولے۔جہاں ذریعہ تعلیم انگریزی تھا اور مکمل طور پر مغربی تہذیب کی نمائندہ تعلیم دی جاتی تھی۔ مذہب بیزاری، عقلیت پسندی پر زور، مادہ پر زور اور مادی ترقی کی بنیاد پر علوم کی تقسیم اسکے بنیادی خاصے تھے۔
|