جیساکہ اس سے قبل عرض کیا گیا ، نئے تعلیمی نظام کی بنیادیں خدا بیزاری اور مذہب و ادار سے بغاوت پر مبنی تھیں اور اسکی اٹھان ہی اخلاق و اقدار سے دوری پر منحصر تھیں۔ نو استعماری نظام میں یہ "روایت"مزید مستحکم ہوگئی۔ اور تعلیمی نظام سے اخلاق و اقدار اور مذہبی روایات کو یکسر خارج کردیا گیا۔ نو استعماریت کے تحت ایک تبدیلی یہ پیدا ہوئی کہ تعلیمی پالیسیز او ر نصاب کارپوریٹ ترجیحات کی بنیاد پر طئے ہونے لگیں۔ اس لئے کہ اسکے مطابق مارکیٹ ہی سب سے بڑا فیصلہ ساز ادارہ ہے جو مانگ کے مطابق پیداوار کا تعین کرتا ہے۔ اس لئے جب تعلیم بھی جنس بازار ٹھہری تو تعلیم کے تمام خدوخال کو طئے کرنے کا اختیار بھی خودبخود اسی مارکیٹ کے حوالے ہوجاتا ہے۔
اس کارپوریٹ کلچر کے تحت وہ اخلاق و اقدار جو کارپوریٹ اخلاقیات (Corporate Ethics)کا حصہ تھے انھیں تو پذیرائی نصیب ہوئی اور IIIMsسے لیکر ملک کے تمام بڑے مینجمنٹ ادارے ان ایتھکس کا چرچا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جیسے پبلک ڈسپلن (عوامی نظم)، وقت کی پابندی، سخت محنت ، وعدہ کی پابندی وغیرہ۔ لیکن دوسری طرف جو اقدار اس مارکیٹ کے لئے سودمند نہیں تھے انھین تعلیمی نظام سے بھی کوڑے کی طرح اٹھاکر پھینک دیا گیا۔ انسانیت سے محبت، آپسی خلوص وغیرہ سنہری اصول یہ تعلیمی نظام اپنے طلبا کا کبھی نہیں دے پاتا۔ |