یہ استعماریت اس کے معروف معنوں سے بالکل مختلف تھی۔ اس کے ہتھیار توپ اور ٹینک کم تھے اور اس کی پالیسیاں زیادہ۔ اس کا سیاسی جبرو استبداد کم رہا لیکن فیصلہ کن اداروں پر گرفت، تہذیبی وثقافتی استبداد اور تعلیمی مداخلت اس کیک اہم ترین ذرائع بن گئے۔ چنانچہ تیسری دنیا کے ان ممالک پر تسلط کے اس نئے ذریعہ نے نو استعماریت کا روپ اختیار کیا۔ جارج بش سینئیر نے اسے نیو ورلڈ آرڈر کے  نام سے موسوم کیا۔

جدید تعلیمی نظام جو آج کل نو استعماریت کے پنجے میں گرفتار ہے اس کی بنیادیں بھی استعماریت سے ہی جڑی ہوئی ہیں۔صنعتیانقلاب کے بعد (سولہویں صدی میں) چرچ اور حکومت کی کش مکش بڑھ گئی اور یہ مذہب بالمقابل ریاست کی شکل اختیار کر گئی۔ اس جنگ میں فتح بالآخر ریاست کو ہوئی لیکن اس دوران چرچ کے سخت رویہ بے لچک اور ظالمانہ سلوک اور ترقی وعلم کے تیں معاندانہ برتاؤ نے ذی علم وفہم افراد کو اس سے بہت زیادہ بد ظن کر دیا ۔ اس دور میں مشہور ہے کہ کئی سائسندانوں کو چرچ کے ہاتھوں موت کا جام پینا پڑا۔ کئی دانشوران پر چرچ کے معروجہ تصورات سے روگرادنی کے جرم میں مہیب مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے۔
 

 

 
     
   

 

 

 
 
 
 
 
 
 

تعلیمی نظام

 

نو استعماریت کے تعلیمی ۔۔۔

 

تعلیم کا تجارتی کرن

 

اعلیٰ تعلیم کی نجی کاری