امریکی استعماریت اور ہندوستان
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
   سیاسی استعماریت کا تدارک
 
 

پالیسی سازی دو سطح پر کی جاتی ہے۔ اول تو بین الاقوامی  سطح کی پالیسیہوتی ہے جسے ہم خارجہ پالیسی (foreign policy) کہتے ہیں اور دوسری داخلہ پالیسی ہوتی ہے جواپنے ملک اور ملک کی عوام سے تعلق رکھتی ہے۔ ان دونوں پالیسی میں استعماری قوت کبھی بھی اپنی اصل شکل ظاہر نہیں کرتی۔ بلکہ ان خاص استعماری نفسیات کے سہارے ہی اپنے مقاصد انجام دیتی ہے۔مورگینتھو نے اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ

and a policy of imperialism almost never reveals its true face in the pronouncements of those who pursue it.

سیاسی استعماریت کی سب سے معروف شکل یہی ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں مداخلت کی جائے۔ مختلف سطح اور نوعیت کی پالیسی اس طرح عمل میں آئے کہ اس سے ’’سوپر پاور‘‘ کی ممنفیت پوری ہوتی ہو۔ پالیسی سازی کہ ذریعہ استعماری عزائم کی تکمیل کے دو خصوصیت ہیں ۔ اول تو یہ کہ اس سے غلام قوم کو پتہ نہیں چلتا کہ اس  پرکوئی اور حکمرانی کر رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے ذریعہ  کسی بھی  بھی ملک کی خود مختاری اور آزادی کو قید میں ڈالا جاسکتا ہے۔

خلاصہ

اب ہم نکات کی شکل میں ساری گفتگو کا خلاصہ پیش کریں گے۔

٭         استعماریت قوت کی توسیع اور استحکام کا نام ہے۔

٭         استعماریت ایک خاص قسم کے Relationship  کا نام ہے جو حاکم اور محکوم میں پیدا ہوتی ہے۔

٭         استعماریت اور استحصال لازم اور ملزوم ہیں۔

٭         استعماریت کی روح اس کے نظریات اور نفسیات میں پیوست ہے۔

٭         سیاسی استعماریت اپنے مقاصد کے لیے پالیسی سازی کے عمل کو اختیار بھی کرتا ہے اور متاثر بھی کرتا ہے۔

٭         سیاسی استعماریت کسی بھی ملک کی خودمختاری کا دشمن ہوتا ہے۔

٭         جمہوریت کا گلابلائزیشن ایک استعماری مہم ہے۔

امریکی استعماریت اور ہندوستان

The US role would resemble 19th century Great Britain-Richard Haass