اس بات سے انکار قطعاً نا ممکن ہے کہ ہندوستان استعماریت سے پوری طرح آزاد ہوگیا ہے۔ انگریز ی آقاؤں کے چھوڑی ہوئی نفسیات اور طبیعیت آج بھی اقتدار پر محسوس کی جاتی ہے اور پچھلے چند سالوں میں عالمی قوت سے قربت نے اس نفسیات، اس سے پیدا ہونے والے رویے کو ہرخاص و عام کے سامنے بیان کردیا ہے ۔
فوجی کاروائی سے لے کر پالیسی کی تبدیلی ۔ ناقدین اور تبصرہ نگار وں پر گرفت اور طاقت کے حصول کے لئے تمام اخلاقی ضابطوں سے برات کا اعلان اسی استعماری ذہن کا عکاس ہے۔
سیاسی استعماریت کا تدارک
اسلامی سیاست کاسنگ بنیاد یہ قاعدہ ہے کہ حکم دینے اور قانون بنانے کے اختیارات تمام انسانوں سے فرداً فرداً اور مجتمعا سلب کرلئے جائے ، کسی شخص کایہ حق تسلیم نہ کیاجائے کہ وہ حکم دے اور دوسرے اس کی اطاعت کریں ، وہ قانون بنائے اور دوسرے اس کی پابندی کریں ۔یہ اختیار صرف اللہ کو ہے۔
(سید مودودیؒ )
قوت اگر کسی قوم کا واحد محرک اور مقصد بن جائے ،تو وہ جس طرح کی تباہی و بربادی لانا ہے اس کی مثال ہمیں انسانی تاریخ میں بارہا ملتی ہے ۔ قوت کے حدود ، اس کے مقاصد اور اس کا اخلاقی ضابطہ متعین نہ ہو، تو وہ انسانوں کے حق میں سراسرشربن جاتا ہے ۔ وہ استحصال ،ظلم اور استبداد سے عبارت ہوتا ہے ۔ چنانچہ قوت کومقصد کی جگہ ذریعہ اور خیر و صلاح کا سر چشمہ نہ ماناجائے تو استعماریت یا نو استعماریت ہر دور میں نئے چولے پہن کر ظاہر ہوتی رہی ہے ۔ ہوتی رہے گی۔ یو روپین اور امریکن قوموں کے قوت کو مقصود اصلی مان لینے کی وجہ سے پیدا ہوئے بحران اور انتشار سے ہم پوری طرح واقف ہے ۔ اس باب میں سیاسی استعماریت سے جنگ کی حکمت عملی پر غور کرنے سے قبل یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ ہم نظری اصول بھی سامنے رکھیں۔ اسلام قوت کے سلسلے میں کیا نظریہ انسانوں کو دیتاہے ۔ حکومت کا مقصدکیا ۔۔بیانک کرتاہے ۔ اس نظریہ کی ترسیل بھی ہمارے نقطہ نظر کی وضاحت اور اپنی حکمتِ عملی کی ترتیب میں اہم ہے۔
اسلام انسانوں کو ایک خدا کا تصور دیتا ہے۔ ایک زندہ وجاوید خدا۔ اس خدا کی حکمرانی صرف آسمانوں میں نہیں بلکہ زمین پر بھی ہے۔ چنانچہ اسلام قوت کی حد بندی کرتا ہے۔ اس کے لئے اخلاقی ضابطے عطا کرتاہے۔ اور حاکم کے تصور کو صرف اللہ کومختص کرتاہے۔ انسان خواہ وہ زیر اقتدار ہو یا رعایا۔ سب اللہ کے بندے اور خلیفہ ہیں حاکم اور بادشاہ کوئی نہیں ۔حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ قانون سازی کا اختیار صرف اسی کوہے۔ قوت ساری کی ساری اسکے اختیار میں ہے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ۔
إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِیَّاہُ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ(یوسف:40 ) |