سیاسی استعماریت کا تدارک
 
 
استعماریت سیاست کی ایک ایسی قسم ہے جو کسی قوم، اس کی عوام اور اس کے کلچر کے معاشی، سیاسی اور فکری طاقت کے پھیلاؤ کے لیے سرگرم عمل رہتی ہے اور یہ پھیلاؤ اس کی سیاسی حدود کے پرے ہوتا ہے۔آکسفورڈ کی تعریف کے مطابق : ایک ملک یا لوگوں کے مجموعے کی جانب سے دوسروں پر غلبہ یا اختیار حاصل کرنا۔
شوم پیٹر (Schumpeter) کہتا ہے کہ
استعماریت اصلاًریاست کے غیر منطقی اور بے مقصد نظم سے لے کر لامحدود اور بالجبر توسیع میں پوشیدہ ہے۔ سیا
سی استعماریت کا نظریہ : استعماری پالیسی اور استعماری عزائم ہمیشہ نظریہ کی تلاش میں ہوتی ہے۔ ایسے نظریوںکی جو اسے استعماری عزائم میںمعاون ثابت ہو۔ چنانچہ استعماریت اپنے اندر ہی کچھ نظریاتی بنیادیں رکھتیں ہیں اور یو بھی ہوتا ہے کہ استعماری عزائم کی تکمیل کے لیے وہ نظریاتی بنیادیں حاصل کر لیتی ہیں۔ نتیجتاً صلح اور جنگ دونوں کے لیے بیک وقت نظریہ وہ اپنے پاس رکھتی ہے۔ اور ضرورت جس کی ہو وہ اختیار کر لیتی ہے۔ گبن کی زبان میں:۔
for every war a motive of safety or revenge,of honor or zeal, of right or convenience may be readily found in the jurisprudence of conquerors.

سیاسی استعماریت کا بنیادی نظریہ تو سلطنت کی توسیع، قوت کا دوام اور زیر تسلط ملک کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے میں پوشیدہ ہے۔ یہ نظریہ کسی بھی قوت (Power) کے ساتھ لازم ہے۔ یعنی قوت کا جز لائنفک ہے۔اس کی شکلیں بدل سکتی ہیں لیکن بنیادی طور پر ان نظریات سے وہ تحریک پاتی ہے۔
            سلطنت کی توسیع اور استحکام
قوت کا فروغ اور دوام
تابع ممالک کا اپنے مفاد میں استعمال
ان نظریہ کے حصول کے لیے کئی جنگوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کبھی کسی معاشی حیلے کے ذریعہ داخلہ لیا جاتا ہے اور کبھی دوسری اقوام کو تہذیب کا سبق دینے کا عظیم مشن استعمال کیا جاتا ہے۔ جسیکپلنگ white man's burdenکہتا ہے۔ ان بنیادی نظریات کی روشنی میں استعماری قوت کچھ مزید نظریات وجود میں لاتی ہے جس سے ان بنیادی نظریات ومقاصد کا حصول ممکن ہوسکے ۔ یعنی نظریے کے حصول کے لیے نظریہ کا وجود۔