ترجیحات کااستعماری کرن :
استعماریت اپنی عوام کو ایک ایسی ترجیح پیش کرتی ہے جس میں عوام اصل ہدف سے بے فکر ہوجائیں اور قوت استحصال کا عمل جاری رکھ سکے۔ ایسے ہی یہ صور ت حال سے ہمیں سابقہ درپیش ہے۔ غربت اپنی جگہ موجود ہے۔ 70 فی صد سے زیادہ ہندوستان 2 ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ ایسی صورت میں ترقی اور سو پر پاور بننے کا خواب دکھا کر قوم کو گرمایا جارہا ہے۔ فلموں ، ککلب کا جال بچھاکر حقیقی دنیا سے محروم کیا جارہاہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی مشقیں ہورہی ہیں ۔ نئے میزائیل اور جنگی طیاروں کی خریداری کا منصوبہ ا اور پالیسی بن رہی ہے۔ اور اسیملک میں روزانہ سینکڑوں بچے غذا کی کمی سے لقمہ اجل بن رہے ہیں روٹھ جھبوالانے اس کیفیت کی صحیح عکاسی ان الفاظ میں کیہے۔
ہندوستان کی سب سے نمایاں سچائی یہ ہے کہ یہ بہت غریب اور پسماندہ ملک ہے۔ اس کے متعلق کئی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کی بنیاد میں یہی حقیقت رہے گی۔ ہم ہندوستانی جمہوریت کی تعریف کرسکتے ہیں ۔ یہاں کی موسیقی کے کیف و سرور سے محفوظ ہوسکتے ہیں۔ ہندوستانی مفکرین کی ستائش کرسکتے ہیں۔ لیکن ہم جو بھی کہیں ، ایک لمحے کے لئے بھی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ہندوستان کی بہت بڑی تعداد ضرورت کے مطابق کھانے سے بھی محروم ہے۔
غربت کے خاتمہ کے نام پر اسکیموں اور پالیسی کا اعلان تو ہوتا ہے لیکن وہ اسکیمیں نفاذ کا جامہ کبھی نہیں بن پاتیں ۔پنجاب میں 10 ملین روپے غربت کے خاتمے کے نام پر جاری کئے گئے لیکن وہ کس غربت کے خاتمہ کیلئے صرف ہوئے وہ آج تک صیغہ راز ہے۔ اس طرح مدھیہ پردیش میں 38.5 ملین روپے محض 705 نل (Tube well)پر خرچ کئے گئے اور اروناچل پردیش میں 23.5 ملینروپے غیرآبادگاؤں کی غربت ختم کرنے میں کام آئے ۔ ایسی مثالوں کی کمی نہیں ۔ حکومت کا رویہ دیش کے کسانوں کے ساتھ وہی ہے جو انگریز حکمرانوں کا اس وقت کے کسانوں کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔ لگان کے نام پر استحصال انگریزی حکام کسانوں کا کیا کرتا تھے ۔ اس سے کچھ کم سنگین صورتحال اس وقت کے کسان کی نہیں ۔ بعض اعداد و شمار ملاحظہ ہوں۔
﴾ محض 10 فی صد کسانوں کو فصل انشورنس (crop insurance) کی سہولت میسر ہے۔
﴾ قرض کے بوجھ کے نتیجے میں سال 1998-2003 کے دوران ایک لاکھ کسانوں نے خودکشی کی۔
﴾ سترہ ہزار کسانوں نے اپنے خاندان کے ساتھ چھ سال کے عرصہ میں خودکشی کی۔
﴾ ہندوستان میں 455 ملین ایکڑ (acre)زمین کاشتکاری کے قابل ہے جبکہ اس کا 1/3 حصہ کوہی پانی میسر آتاہے۔
﴾ GDP کا محض 0.3% کاشت کاری کے تحقیق میں صرف ہوتاہے۔
اسطرح کے مختلف اعدا د و شمار اور حقائق یہ فسانہ بیان کرتے ہیں کہ ملک کی ترجیحات کس طرح کے تضاد اور استعماری نفسیات کا شکار ہے۔ استحصال کن کن شکلوں میں جاری ہیں۔
میڈیا اور استعماری اثرات :
میڈیا استعماریت کا سب سے اہم آلہ رہاہے۔ جقائق کی تشکیل سے اذہان کی ترتیب تک یہ کام آتا ہے۔ میڈیا کے ذریعہ قوت legitimacy حاصل کرتی ہے۔ اپنے تصورات، افکار اور پالیسی پر public opinion بنانے کا عمل بھی میڈیا کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل جنگ کی فصا بنانے اور قوی جذبات میں ابال لانے میں میڈیا کا کافی ہاتھ رہاہے۔ آج کے دنیا ایک گلوبل گاؤں بن گئی ہے ۔ انفارمیشن کا سیلاب ہے۔ میڈیا ایسی صورتحال میں ایک اہم ترین ضرورت اور قوت بن کر ابھری ہے۔ لیکن آزاد میڈیا ابھی بھی خام چیز ہے۔
ہندوستانی میڈیا کا بھی ایک بڑا حصہ کہیں نہ کہیں قوت کی خدمت میں ہی صرف ہوتاہے۔ TRP بڑھانے کی ہوڑ میں ہر چینل اور اخبار کا رپوریٹ اور حکومت کی ضرورتوں کی شکل کے فرئض انجام دے رہاہے۔ دہشت گردی کے مسئلہ سے لے کر خارجہ پالیسی تک میڈیا حکومت کے لئے public opinion بنانے کے عمل میں مصروف ہے ۔ مشہور صحافی رابرٹ فسک نے ایک موقع پر کہاکہ اب دو قسم کی صحافت رواج پاگئی ہے۔ ایک ہوٹل جرنلزم اور دوسری فیلڈ جرنلزم۔ بد قسمتی سے ہندوستان میںہوٹل جرنلزم فروغ پارہی ہیں جسے اگر گوگل جرنلزم کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوتا۔ حکومتی ایجنسیوں سے خبریں لینا او ر اسے سنسنی خیز بناکر پیش کرنا ہندوستانی میڈیا کاقاعدہ اور استعماری قوت کی ضرورت ہے۔ کسان کے مسئلہ پر ، displacement کے ایشو پر، قبائلی بے انصافی کے مدے پر کوئی سنجیدہ بحث اس میڈیا کے دلچسپی کاحصہ نہیں اس لیے کہ یہ قوت کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ ۔ ایک استعماری حیلہ :
امریکہ پر9/11,2001 کو ہوئے حملہ کے بعد امریکی حکمرانوں نے ’’دہشت گردی ‘‘ کو دنیا سے ختم کرنے کیلئے اعلان جنگ کیا ۔ اور war on terror کے نا م پر افغانستان، عراق اور پاکستان کے کئی حصے امریکی بمباروں کی زد میں ہیں۔ دشت گردی کیخلاف جنگ دراصل ایک استعماری حیلہ اورہتھیار ہے جس کو استعمال کرکے امریکہ دنیا میں اور مطلوبہ علاقوں میں اپنی طویل المعیاد پالیسی کا نفاذ کررہاہے۔ پاکستان پردہشت گردی ختم کرنے کے نام پر سال2006 سے ڈرون حملے شروع کئے گئے ہیں جس کا اصل نشانہ دہشت گرد کم اور عام شہری رہے۔ New American foundation کی ایک رپورٹ کے مطابق 320 سے زیادہ شہری ڈرون حملوںکے زد میں آچکے ہیں ۔ آئیے امریکی جنگ ، دہشت گردی پرقدرتفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔ |