The conquest of the earth , which mostly means the taking it away from those who have a different complextion or slightly flatter noses than ourselves, is not a pretty thing when you look into it too much -- Joseph Conrad
قوت کے استحکام اور سلطنت کی توسیع کے لیے ہر دور میں نئے ذرائع ایجاد ہوتے رہے ہیں۔ ان ذرائع اور طریقوں کی پشت پر نئے نظریات اور ضروریات بھی ہوا کرتی ہیں۔ استعماریت اور نو آبادیاتی نظام بھی قوت اور سلطنت کی توسیع اور استحکام کا ایک نظریہ اور طریقہ کار ہے۔ استعماریت اور نوآبادیاتی نظام کا تصور انیس ویں صدی کے یورپ میں پروان چرھتا ہے۔ تاریخ کے مطالعہ سے ایک اہم بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ یورپ میں نشاۃ الثانیہ اور صنعتی انقلاب کے بعد ایسے نظریہ کا فروغپا نا’’فطری‘‘ عمل تھا۔ یعنی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نشاۃ ثانیہ اور صنفی انقلاب کی فطری پیداوار استعماریت اور نوآبادیاتی نظام ہے چنانچہ 1884 میں فرانسیسی وزیر اعظم جولیس فیری نہ کہا تھا کہ نوآبادیاتی پالیسی، صنعتی پالیسی کے بطن سے پیدا ہوتی ہے۔
سلطنت کی توسیع اس کے لیے جنگیں اور مہمات کوئی نیاعمل نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ لیکن یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور صنعتی انقلاب نے اس عمل کو نئی فکر، نیا رخ، نیا طریقہ کار اور نئے عوامل عطا کئے۔ اسی لیے اس سے قبل کی توسیع کار وائی اور جنگی مہمات اور ان انقلابات کے بعد پیش آنے والے مہمات میں کافی واضح فرق ہے۔ اور اس فرق کی وضاحت کے لیے استعماریت اورنو آبادیاتی نظام جیسی اصطلاح وجود میں آئی ہے جس کے پیچھے فکری قوتیں کبھی کارفرما ہیں۔
تعریف
استعماریت اور نوآبادیاتی نظام ایک ساتھ استعمال کیے جانے والے الفاظ ہیں۔ لیکن ان میں دو بنیادی فرق ہیں۔ اول تو یہ کہ نوآبادیاتی نظام معاشی استحصال تک محدود ہے جب کہ استعماریت کا دائرہ سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی استحصال تک پھیلا ہوا ہے۔ دوم یہ کہ استعماریت اپنے اندر ایک نظریاتی بنیاد رکھتا ہے جس کے نتیجے میں نوآبادیاتی نظام وجود میں آتا ہے۔ ایڈورڈسعید کے مطابق نوآبادیاتی نظام استعماریت کا لازمی نتیجہ ہے۔ استعماریت اصلاً قوت کی توسیع اور اپنے جغرافیائی حدود کے باہر دوسرے کی سرحد میں دخل اندازی اور قوت کو استعمال کر کے قبضہ پانے کا نام ہے۔ استعماریت دوسروںکے حدود میں دخل اندازی اور وہاں اپنا اختیار منوانے کی کوشش کا نام ہے۔ ایک معروف تعریف ایکرٹ کی ہے (Eckert) وہ کہتا ہے:۔