٭مومنین کے لئے فضول خرچی کا شیطانی رویہ زیب نہیں دیتا ۔ جگمگاتی تقریبات، دولت کی بیہودہ نمائش ، اور بدترین اصراف کے ذریعے سر عام اسلامی سادگی اور وقار جیسے اصولوں کی دھجیاں اڑانا ایک مومن کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ ٭ایک مخصوص کلچر میں رہ کر صرف اپنے گرد حصار باندھنا بھی کافی نہیں۔ بلکہ انسانیت نواز اور غریب پرور سسٹم کی تشکیل کا عزم رکھنا اور اسکے لئے جدوجہد بھی کرنا ضروری ہے۔ عزم نیک ہو تو انہیں حقیقت میں ڈھلتے دیر نہیں لگتی۔
مطالبات
عمومی بیداری کے ساتھ ساتھ چند اہم سماجی ضروریات کی جانب حکومتوں کو توجہ دلانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
٭بنیادی انسانی ضروریات (مثلاً کپڑا ، بنیادی تعلیم ، مکان اور ضروری طبی خدمات ) ہر شہری کا قانوناً بنیادی حق تسلیم کیا جائے ۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہو کہ ان بنیادی انسانی ضروریات سے کوئی شہری محروم نہ رہے ۔ یوں غربت اور گداگری کے خاتمے کو ممکن بنایا جائے ۔
٭ SEZsکی لینڈ ایکویزیشن کے سلسلے میں اپنائی جارہی غریب مخالف پالیسیز پر روک لگنی چاہیئے۔حکومتوں کو کاشتکاروں کی حق تلفی کا کوئی حق نہیں ۔PESA ایکٹ کی خلاف ورزیوں کی عدالتی انکوائیری ہو ۔SEZs کے لےئے زمین پر قبضے سے قبل متعلقہ مالکین زمین ، گرام سبھا ، اور حقوق انسانی تنظیموں کی منظوری لازمی ہو ۔
٭اشیا ء صَرف کی اشتہار بازیوں کی سچائی اور اخلاقی معیار کی تصدیق کے لئے ایک خود مختار ادار ہ قائم کیا جائے ۔ یہ ادارہ پراڈکٹ پبلسٹی کے لئے اپنائے جارہے ہتھکنڈوں پر نظر رکھے اور عوام کو اشتہار بازی کی لوٹ سے محفوظ رکھے ۔
|