سماجی تفریق کے اسباب ومحرکات
٭ حکومتی پالیسیز :
ارباب حکومت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی یقینی بنائینگے۔ لیکن سرمایہ دارانہ معیشت اور عالمی استعمار کے دباؤ کے نتیجہ میںبالعموم ہمارے ملکی پالیسی ساز اداروںکا رجحان غریب مخالف اور سرمایہ دار پرور رہا ہے۔حکومتی اداروں نے عوام کو بظاہر سیاسی حقوق تو دے رکھے ہیں لیکن معاشی حقوق سے عملاً محروم کر رکھا ہے ۔ ملکی عوام کی بدترین غربت اور محرومیاں ہمارے سیاستدانوں کی ناقابل معافی ناکامیوں کا اظہار ہیں۔
معروف اکانومسٹ امیت بہادری نے حکومتی پالیسیز کے انہیں ناکامیوں کا احاطہ اپنی کتاب Development with Dignity میںکیا ہے۔
ان کے مطابق ترقی (Development)محض اونچی شرح نمو (Growth Rate )کا نام نہیں بلکہنمو (Growth)اور اسکے اثرات کی منصفانہ تقسیم کا نام ہے ۔ جس میں کسی ذہنی تحفظ (Prejudice )اور تفریق (Discrimination)کا کوئی دخل نہ ہو۔ پیداوار میں اضافہ غربت کے ازالہ کی کوئی لازمی شرط نہیں اور نہ ہی Growth کوئی ایسا عمل ہے جسکا سماج سے کوئی تعلق نہ ہو (Socially Neutral) سرمایہ دارانہ موافق پالیسز کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا کی 80 فیصد آبادی (بشمول ہندوستان) تیزی سے بڑھتی سماجی تفریق کے عذاب کا شکار ہے ۔[3 ]
دی آبزرور (April 28-2002) کے مطابق امریکی سماج تیزی سے بٹتا (Polarized) جارہا ہے۔ اور اس وقت مغرب کا سب سے زیادہ عدم مساوات کا شکار سماج (Unequal society) بن چکا ہے۔ یہ وہ سماج ہے جو سرمایہ دارانہ استعمار کا عالمی لیڈر ہے۔ سرمایہ دارانہ پالیسیز جب امریکی معاشرہ کو اسقدر Polarised کیے دیتی ہیں تو ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر اس راہ پر آنکھیں موند کر ہمارا ملک بھی چل پڑے تو آنے والے دنوں میں یہ تفریق ملکی سماج میںکیا کچھ قہر ڈھا سکتی ہے۔