یہ وہ بنیادی اپروچ ہے جو فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہے اور کوئی چیز غلط (گناہ) بھی نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ تہذیب بھی ان تقاضوں کی بظاہر تکمیل کرتی نظر آتی ہے۔پھر اس کا حتمی نتیجہ محرومی اور سماجی تفریق کیوں؟
خرابیوں کی اصل وجہ دراصل خود غرضی ، نفس پرستی ، سرمایہ پرستی اور تعیش ہے ۔
اسلامی حل: ۔
اس کربناک صورتحال کا حل بھی اسلام پیش کرتا ہے۔ بنیادی طور پر اسلام تین اصول پیش کرتا ہے ۔
( ۱ ) نظام فطرت نے کچھ فطری اصول طے کر رکھے ہیں وہ برقرار ہیں جہاں فطرت سے انحراف ہو وہیں فوراً تصیح ہو۔
( ۲ )متمدن معاشرہ کا قیام صرف ضابطوں اور قانون کے ذریعہ نہیں ہوتا ۔بلکہ اخلا ق اور ذہنیت جیسی اقدار بھی اہم ہیں اور انکی اصلاح کا ضروری نظم ہونا چاہئے ۔
( ۳ ) قانون اور سختی سے وہیں کام لیا جائے جہاں ناگزیر ہو۔
سرمایہ دارانہ فکر کے مقابل اسلام ایک متوازن اور مبنی بر انصاف معاشی حل پیش کرتا ہے۔ یہ ایک عین متوسط اور معتدل نظریہ ہے۔ مولانا مودودیؒ نے سرمایہ داری اور اسلام کا فرق کلام الٰہی کے حوالے سے بہت دلنشین انداز میں بیان کیا ہے۔ آئیے انہیں نکات کا مختصراً احاطہ کرتے ہیں۔
سب سے اہم چیز مال کمانے کے ذرائع ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام جہاں مال کمانے اور ذخیرہ کرنے کا کھلا لائسنس دیتا ہے وہیں اسلام کا یہ واضح اصول ہے کہ حصول دولت کے وہ تمام راستے ممنوع ہیں جو کسی دوسرے فرد کے نقصان کا سبب ہوں۔ مزید کہ وہ تمام طریقے جائز قرار دیے گئے ہیں جن میں آپسی فوائد کا تبادلہ منصفانہ طور پر انجام پائے۔ قرآن مجیدنے اسی کلیہ کو یوں بیان کیا۔
|