ایک کثیر آبادی صرف اس کا کرب جھیل رہی ہے اور سخت منافع خور رجحان کے سبب ان کے حصے میں استحصال اور مصائب کے انبار کے عوض معمولی معاوضہ آتا ہے ۔
سماجی تفریق
سماج کے مختلف طبقات میں وسائل، اختیارات، حقوق اور مراعات کی غیر منصفانہ اور غیر متوازن تقسیم کی بدولت پیدا ہونیوالی نابرابری ہی دراصل ’’سماجی تفریق‘‘ کہلاتی ہے۔
محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر وسائل واختیارات میں کمی وبیشی مہذب سماج میں بھی ایک عین فطری بات ہے۔ لیکن اگر اس فرق کا سبب حق تلفی لوٹ کھسوٹ اور بے انصافی ہو تو یہ بد ترین بے چینی اور بے شمار سماجی مسائل کا سبب بنتی ہے۔ سرمایہ دارانہ استعمار اسی سماجی تفریق کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔
اہرین سماجیات کے نزدیک سماجی تفریق ایک قابل پیمائش عنصر ہے۔ سماجی تفریق کو Socio Economic Scale (SES) کے ذریعہ محسوب کیا جاتا ہے۔ جس کے ذریعہ اس بات کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کوئی شخص یا کمیونٹی اسی سماج کے دیگر افراد یا گروپس کے مقابل کس مقام پر کھڑا ہے۔ یہ پیمائش تین نکات کا احاطہ کرتی ہے۔

۱۔ معاشی کیفیت           ۲۔ تعلیمی کیفیت
۳۔ (Occupational Status)پیشہ وارانہ وقار

صدیوں سے چلے آرہے سماجی رجحانات کے باعث ہندوستان کے اعلیٰ طبقات کے مقابل پسماندہ طبقات کا اوسط SES اسکور بہت کمزور ہے۔اب جدید سرمایہ دارنہ استعمار ی رجحان کے باعث SES اسکور کا یہ فرق مزید گہراہواجارہاہے۔
SES کی بنیاد پر ماہرین سماج نے سماج کو حسب ذیل حصوں میں تقسیم کیا۔