عالمی سرمایہ دارانہ پالیسیز کے نتیجے میںملی صنعت کا زوال ایک کھلی حقیقت ہے۔ اگست 1999 میں سرسوں کے تیل میں ملاوٹ کی شکایت کی بنیاد پر حکومت دہلی نے سرسوں تیل کی فروخت پر پابندی لگوادی تھی۔ اور خوردنی تیل کی درآمد پر عائید تمام تحدیدات کا خاتمہ کر دیا۔ امپورٹرس کو کھلی چھوٹ دی گئی جس کے نتیجے میں خوردنی تیل کی درآمد 60 فیصد بڑھ گئی اور مقامی کسانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔
تیل کی خراب کوالٹی کے لیے منافع خور تاجر ذمہ دارہوتے ہیںناکہ کاشتکار ۔ لیکن اس کی مار بالآخر کسانوںکو جھیلنی پڑتی ہے۔ یہ بھی ایک دورخی پالیسی ہی کہلائے گی کہ ترقی پذیر ممالک میں سبسڈیز کی حوصلہ شکنی کے لیے مقامی حکومتوںکو اکسایا جاتا ہے جبکہ امریکی کسان سبسڈائزڈ نرخ سے فائیدہ اٹھاکر عالمی منڈی میں مسابقتی داموں میں غذائی اشیا برآمد کرکے مقامی اشیا کو بے دخل کردیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ امریکی تیل بھی ہندوستان مارکیٹ میں بآسانی جگہ بنا لیتا ہے۔
یوں سرمایہ دارانہ طاقتیں تجارتی حلقوں میں ایک ایسی ناقابل عبور سرحد (Apartheid wall) تعمیر کرتی ہیں۔ جسے پھلانگ کر تجارتی مسابقت کی ہمت کرناملکی صنعتوں ،تاجرین اور کاشتکاروںکے لیے بسا اوقات ممکن نہیں رہت
سماجی بے چینی اور جرائم
ملکی معیشتوں کو سرمایہ داراستعمار سودی قرضوں کے جال میں دبوچ کر کنٹرول کرتا ہے۔ سوال یہ ہیکہ ہندوستان جیسے ممالک کے غریب سماج کے کس حصے پر سودی قرض کی مار پڑتی ہے۔ نیو انٹرنیشنلسٹ (issue 312)کی رپورٹ Debt- The factsکے مطابق مقروض ملک جتنا غریب ہوگا اتنا ہی زیادہ اس بات کا امکان ہوگا کہ قرض کی ادائیگی کی ضرب ان ملکی عوام پر پڑے جن تک اس قرض کا کوئی فائدہ نہ پہنچا ہو۔ ظاہر ہے یہ بدترین تفریق کہیں زیادہ بدترین سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔