سرمایہ دارانہ استعمار

 تاریخ کے ہر دور میں استعمار نئے روپ میں سامنے آتا رہا۔ کبھی سیاسی استعمار کی صورت میں کبھی معاشی مظالم کے روپ دھار کر اور کبھی ذہنی قوتMind Power کی شکل اختیار کر کے۔ قرآن مجید فرعون، قارون اور ہامان کو علی الترتیب انہی تین استعماری قوتوں کے نمائندوں کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے مقابل ان کی استعماری کشمکش حق پرستوں کے لیے ایک مکمل رہنمائی ہے۔ آج کے دور کا سرمایہ دارانہ سامراج دراصل وقت کے استعمار کا قارونی چہرہ ہے۔ یہ استعمار اس تھیوری پر مبنی ہے جسے نیولبرلزم کہا جاتا ہے۔ اس فکر کے چند اہم پہلو حسب ذیل ہیں۔
۱ ) مارکیٹ راج: تجارت کو تمام حکومتی تحدیدات سے آزاد کر دیا جائے۔ سماجی نفع وضرر سے قطع نظر تجارت مکمل طور پر آزاد ہو۔ عالمی تجارت کے لیے زیادہ کھلا پن ہو۔ مالی وسائل اور سرمایہ کی آزاد ترسیل ہو۔  اشیاء کے نرخ پر کوئی کنڑول نہ ہو۔ورکرس یونین کی حوصلہ شکنی اور معاوضہ کے سخت اصول اس فکر کا خاصہ ہیں۔ ( ۲ ) ڈیرگیولیشن: منافع پر اثر انداز ہو نیوالے تمام حکومتی قوانین کا خاتمہ ہو۔
۳ ) عوامی اخرجات میں کمی: بنیادی سماجی ضروریات کے شعبوں میں ’’حکومتی رول‘‘ کو کم کرنے کے لیے اخراجات میںکٹوتی ہو۔ ( ۴ ) پرائیوٹائزیشن: حکومتی اداروں حکومتی جائیدادوں اور سروسز کو فروخت کرکے نجی شعبہ کے حوالہ کیا جائے۔ عام طور پر حکومتی شعبوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے نام پر حکومتی اداروں کی نجی کاری کی جاتی ہے۔
ان نو سرمایہ دارانہ رجحانات کو عالمی معاشی اداروں کی مدد سے ترقی پذیر ممالک پر تھوپا جاتا ہے۔ جسکا شکار ہمارا ملک بھی ہے۔اس سرمایہ دارانہ فکر سے مستفید ہونیوالوں کی تعداد انتہائی قلیل ہوتی ہے ۔