ملٹی لین ہائی ویز سکڑتے سکڑتے دھول سے ڈھکی پگڈنڈی بن چکی ہیں۔ چمچماتی کاروں نے نہ جانے کہاں ساتھ چھوڑ دیا ۔ صرف دھول اور دھواں اڑاتی تھری وھیلر جانوروں کی طرح انسانوں کو لاد کر گاؤں کی سرحد چھونے کی ہمت جٹا پاتی ہے۔ ناقص غذا اور آلودہ پانی نے گاؤں کو بیماریوں کی لیباریٹری بنادیا۔ زیرو مارکٹ والیونے ڈاکٹرس کو بھی ببن سے کوسوں دور رکھا۔ یہاںبچوں سے آپ یہ مت پوچھیے کہ وہ کس کلاس میں پڑھتے ہیں۔ٹوٹے دانتوں کے ساتھ ان کی کھلکھلاتی ہنسی آپکے تکلیف دہ مذاق کا ان کی جانب سے کرارا جواب ہوگی۔
جی ہاں۔ یہی ہمارے ملک کا افسوسناک منظر نامہ ہے۔ یہ وہ بد ترین سماجی تفریق ہے جو پچھلے کئی سالوں سے ہمارا مقدر ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ کھائی ہر آنیو الے دن زیادہ وسیع تر ہوتی چلی جارہی ہے۔
سماجی تفریق (Social Disparity) ہندستان جیسے ممالک کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن سرمایہ دارانہ استعمار اس تفریق کو جس تیزی کے ساتھ پھیلا رہا ہے وہ نہ صرف حیرت بلکہ سخت تشویش
کی بات ہے۔