| |
 |
|
 |
|
|
 |
|
مَا عِن٘دَکُم٘ ےَن٘فَدُ وَمَا عِن٘دَ اللّٰہِ بَاقٍ... (النحل:۹۶
جوکچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے
مال کا صحیح تصور
صارفیت جس نظام کا حصہ ہے‘ اس نظام ہی نے دولت کے صحیح مقام کا تعین نہیں کیا۔اس لئے مال کا صحیح تصور ‘ صارفیت کے بڑھتے اثرات کو بڑی حد تک کم کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو وسائل انسان کو دےئے ہیں‘ ان پراس کو نگران کار بتایاہے‘ جو دولت اسے حاصل ہوئی ہے‘ جن اسباب اور ذارئعوں سے اس نے اسے کمایا ہے‘ وہ سب کے سب اللہ کے ہیں۔ انسان کا مطلوب رویہ یہی ہونا چاہئے کہ جس خدا کے فضل سے اسے مال ملا‘ اس کو اسی کے بتائے ہوئے راستے میں خرچ کرے :
....وَان٘فِقُو٘ا مِمَّا جَعَلَکُم٘ مُس٘تَخ٘لَفِے٘نَ فِے٘ہِ (الحدید:۷ )
اور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے
مال کے اسی تصور سے یہ بات بھی عقل قبول کرلیتی ہے کہ‘ اطراف و اکناف میں جو لوگ رہتے ہیں‘ وہ دولت کے حصہ دار ہیں۔
وَالَّذِے٘نَ فِیٓ ٘ اَم٘وَالِھِم٘ حَقٌّ مَّع٘لُو٘مٌ لِّلسَّآئِلِ وَ ال٘مَح٘رُو٘مِ (المعارج:۲۶۔۲۵ )
جن کے مالوں میں پوچھنے والے اورمحروم کا مقررحق ہے
اس تصور کے ساتھ زندگی گذارنے والوں کو اللہ تعالیٰ بڑا محبوب رکھتا ہے ۔ان کے خرچ کرنے کے مختلف طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ ہر حال میں مال خرچ کرتے ہیں‘ کھلے چھپے‘ تنگ حالی میں اور خوشحالی میں‘ رات میں اور دن میں۔ اگر کوئی شخص اپنے مال سے اپنے اعزہ و اقربا اور پوچھنے والوں کی خبر گیری نہیں کرتا تواس کا صرف ایسا طرز عمل ہی اس کی تباہی کے لئے کافی بتایا گیا۔رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
|
|
|
 |
|
 |
|
|