مقصد زندگی کا صحیح تصور
بحیثیت مجموعی پورے عالم کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے سرمایہ دارانہ استعمار کی مختلف شکلوں کی اصلاح ‘ مقصد زندگی کے صحیح تصورہی سے ممکن ہوسکتی ہے۔انسانوں کا لہو ولعب میں پڑجانا ’ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھ لینا‘ مادی وسائل کے حصول کی خاطر‘ ظلم و ناانصافی کا سہارالینا- محض اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے رحیم و کریم آقا کو بھولا ہوا ہے۔بس اس کو یاد دلایا جائے کہ اس کا حقیقی خدا کون ہے‘ زندگی کا مقصد کیا ہے‘ اس دنیا میں رہتے ہوئے اسے کس طرح زندگی گذارنی چاہئے۔جب اس کی ذہنی ساخت درست ہوگی تو اس کا رویہ ہر ایک تئیں درست ہوگا۔ صارفیت کا دائرے میںنہ صرف انسانوں کے مسائل موجود ہیں بلکہ ماحولیات سے لے کر دوسرے چرند اور پرند تک کے مسائل اس میں شامل ہیں۔انسان خدا کو جان لے تو وہ اپنی دولت اوروسائل کا صحیح استعمال کرے گا ۔اور اس ارشاد ربانی :
اَلاَّ تَط٘غَو٘ا فِی٘ ال٘مِے٘زَانِ وَاَقِے٘مُواال٘وَز٘نَ بِال٘قِس٘طِ وَ لاَ تُخ٘سِرُو٘ا ال٘مِے٘زَانِ (الرحمن:۹۔۸ )
تم میزان میں خلل نہ ڈالو‘ انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو
کا ہر لحظہ خیال رکھتے ہوئے احساس ذمہ داری کے ساتھ زندگی بسر کرے گا۔اس صدی میں دین اسلام کی اشاعت کواور صارفیت سے متعلق اس کی تعلیمات کو‘ایک معرکہ آرائی سے تعبیر کیا جارہا۔اور کہا جارہا ہے کہ یہ صدی Islam Vs West's Daily Breadکے مصداق ہے۔دین اسلام کی حیات بخش تعلیمات کو ‘ عالمی تناظر میں بڑے ہی دلنشین پیرائے میں وضاحت کرنے کی ضرورت ہے‘ یہ صدی اس کے لئے تیار شدہ اسٹیج کی حیثیت رکھتی ہے اوراس صدی کا انسان اس کا متلاشی معلوم ہوتا ہے۔صرف صارفیت ہی کہ اس ایک معاملہ کو لیجئے۔دیکھئے انسان کس طرح اس کے برے اثرات سے انسانوں کو محفوظ رکھنے کی کوششوںمیں لگا ہوا ہے۔29نومبر 2008کو عالمی سطح پر ایک یوم |