صارفیت حقیقت میں وہ اصطلاح ہے جسے کسی بھی فرد پر مارکییٹ کی معیشت کے اثرکومعلوم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
مادہ پرستی کے بڑھتے رجحانات کے سبب صارفیت کاترقی کرجانا بالکل واضح ہے۔لیکن گذشتہ چند دہائیوں میں ہوئی ترقیوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صارفیت کو فروغ دینے کے لئے باضابطہ اور منصوبہ بندکوششیں ہوئیں ہیں۔
( ۱ ) اس میدان کے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ اکیسویں صدی کی صارفیت کا ایک غالب عنصر ایک دوسرے سے بڑھنے کی چاہت (Emulation) ہے۔معاشرہ میں ہر طرف اس کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔ غریب ‘ امیر کی نقالی (Imitation) کرتے ہیں اور امیر ‘ معروف شخصیات (Celebreties) کی۔ یہی وجہ ہے کہ اشیاء کی فروخت اور ان کے بڑے پیمانے پر Advertisementکے لئے Celebretiesہی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جن میں خصوصیت کے ساتھ فلمی ستارے اور کرکٹ کھلاڑیاں شامل ہیں۔حال ہی میں منعقد ہوئے ‘DLFکے 20-20کرکٹ میاچس ‘ان دو میدانوں کی نمایاں شخصیات کے باہمی تعاون کے ساتھ اشیائے غیر ضروریہ کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی واضح مثال ہیں ۔مشاہدہ بتاتا ہے کہ اس کے بعد Luxuryکاریں‘ موبائیل سیٹس‘ ایر کنڈیشن وغیرہ کا بڑے پیمانے پر کاروبار ہوا ہے۔ہندوستا ن میں آج سے دس قبل ایک بھی Shopping Mallنہیں تھا۔ایک سال قبل تقریباً 60وجود میں آگئے۔ اور آئندہ دو سالوں میں250قائم ہونے کے پورے امکانات نظر آرہے ہیں۔
( ۲ ) صارفیت کی حیرت انگیز ترقی کا ایک اور سبب یہ ہے کہ اشیاء کو ہر فرد کے لئے قابل استعمال بنانے ‘ کافی سہولیتیں مہیا کی گئی ہیں۔ہر شئہ تک ‘ ہر فرد کی رسائی کو ممکن کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔قیمتی کاروں کی خریدی ہو یاگھر کی تعمیر سودی قرض کی فراہمی آسان ہے۔اعلی طریقہ سے تیار کی گئی
|