"ہم نےاکیسویں صدی میں ایک ایسے مرحلے میں قدم رکھا ہے کہ صارفیت کا بڑھتا رجحان ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے قائم اس فطری نظام کو بری طرح متاثرکررہا ہے جس پر ہم سب کا انحصار ہے اور رہے معاشرہ کے مفلوک الحال لوگ ‘ ان کے لئے بنیادی ضروریات کا حصول مشکل سے مشکل تر بنتا جارہا ہے"یہ الفاظ ورلڈ واچ انسٹی ٹیوٹ کے صدرChristopher Flavinکے ہیں‘ جو صارفیت کے دن بدن بڑھتے مضر اثرات سے نہ صرف فکر مند ہیں بلکہ اس کی روک تھام کے لئے باقاعدہ ایک ادارہ قائم کررکھا ہے-نہ صرف ایکChristopherنہ جانے دنیا میں ایسے کتنے ادارے ‘ تنظیمیں اور افراد ہیں جو انسانوں کی فطری ترقی کی راہ میں حائل صارفیت کے زہریلے کانٹوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔یوں تو صارفیت(Consumerism)کسی بھی شئے سے متعلق ایک فرد کی پسند کو ظاہرکرتی ہے ۔لیکن موجودہ دور میں اس کی ترقی نے اسے معنوں کے مختلف جامے پہنائے ہیں۔صارفیت لوگوں کے ایسے رجحان کے لئے مستعمل ہے جو کسی بھی شئے کو خریدنے یا کسی سروس سے مستفید ہونے کے لئے ان کے اندر پایا جاتاہے‘ جیسے قیمتی آٹوموبائیلس Designer Clothes‘مہنگے زیورات ‘ عالیشان گھر وغیرہ۔اس کے سلسلے میں یہ بات بھی خاصی عام ہے کہ:
Consumerism is a term used to describe the effect of market economy on an individual