|
| |
 |
ترقیاتی ترجیحات اور حکومتی خرچ |
|
|
| |
ہمارے پالیسی سازوں نے دانستہ اپنی ترجیحات اس طرح متعین کی ہیں کہ قومی آمدنی میں اضافہ کا فائدہ صرف بڑے بڑے سرمایہ داروں کو ملتا ہے۔ پالیسیوں کا رخ اس طرح ہے کہ جن سیکٹرز پر بڑے بڑے سرمایہ دار قابض ہیں وہ ترقی کر رہے ہیں۔ انہیں حکومت کی جانب سے بھر پور تعاون مل رہا ہے۔ اور جو سیکٹرز غریب عوام سے متعلق ہیں وہ برابر سکڑ رہے ہیں ۔
ایک ایسے ملک میںجو ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس کے اعتبار سے 134 ویں نمبر پر ہے اورجہاں دنیا کے غریبوں کی آدھی تعداد بستی ہے، قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ فطری طور پر غریب عوام کو اوپر اٹھانے کے لیے لگنا چاہیے۔ لیکن ہمارے ملک میں سماجی کاموں میں خرچ افسوسناک حد تک کم ہے۔ یوپی اے کی حکومت نے گرچہ کچھ اضافہ کیا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ابھی بھی غریب عوام کی فلاح وبہبود سے متعلق محاذوں پر خرچ بہت کم ہے۔ صحت عامہ کی مثال لیجیے ۔صحت عامہ کی صورت حال کے اعتبار سے ہمارا ملک دنیا کے بد ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ہر سال ہمارے ملک میں ۵۶ لاکھ بچے مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے مرجاتے ہیں ۔ یہ تعداد دنیا بھر میں مرنے والے بچوں کی تعداد کے نصف سے زیادہ ہے۔ہمارے ملک میں ہر سال سات لاکھ لوگ ڈائریا جیسی آسانی سے قابل علاج بیاری سے مر جاتے ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضہ ہے کہ ہم ساری دنیا سے زیادہ اپنے عوام کی صحت پر خرچ کریں۔ (جو زیادہ بیمار ہوگا فطری طور پر اسے زیادہ صحت پر خرچ کرنا ہوگا۔) لیکن یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ، جی ڈی پی کے تناسب سے عوامی صحت پر خرچ کے اعتبار سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 175 ملکوں کی جو فہرست بنائی ہے اس میں ہمارا نمبر نیچے سے پانچواں یعنی اوپر سے 171 واں ہے۔ |
|
|
|
|
|
|