٭دستوری ترمیم کے ذریعہ بنیادی ضرورتوں کے حق Right to Livelihood کو بنیادی انسانی حق قرار دیا جائے اورتمام ضرورت مند شہریوں کے لئے روٹی، کپڑے، مکان اور علاج کی فراہمی کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا جائے۔
٭حکومت کا ترقیاتی اور سماجی خرچ بڑھایا جائے۔ تعلیم پر 6 فیصد جی ڈی پی اور صحت پر3 فیصد جی ڈی پی کے وعدے فی الفور پورے کئے جائیں۔ مجوزہ قانون حق تعلیم میں ترمیم کرکے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اس خرچ کا پابند بنایا جائے اور اسی طرح کا قانون صحت کے حوالہ سے بھی بنایا جائے۔
٭زرعی معیشت کو فروغ دینے کے لئے ایم ایس سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ فی الفور نافذ کی جائے۔
٭گیارہویں پلان میں دیہی معیشت اور اس سے متعلق سیکٹرز کی ترقی کے لئے متناس رقومات متعین کی جائیں۔
٭پلان میں مسلم کمپونینٹ پلان شامل کیا جائے۔
٭فلاحی اور بہبودی کاموں کی تکمیل کے لئے آمدنی بڑھائی جائے اور حسب ضرورت امیر ترین لوگوں سے ٹیکس کی شرحیں بڑھائی جائیں۔ ایجوکیشن سیس کی طرز پر خصوصی ٹیکس غربت کے خاتمہ کے لئے لیا جائے۔
٭بڑی کمپنیوں اور کارپوریٹ اداروں نیز ملٹی نیشنل کمپنیوں کو عوام کی ترقی میں ساجھے دار بنا یا جائے۔کارپوریٹ سوشل ریسپاننسبلٹی کو قانونی طور پر متعین کیا جائے۔ اور کمپنیوں کو ان کے ٹرن اوور کی مناسبت سے فلاحی اہداف دئیے جائیں۔ جن کی آڈٹ کا مستقل نظم ہو اور جن کی تکمیل ان کی قانونی ذمہ داری ہو۔
|