|
| |
 |
زرعی بحران |
|
|
| |
چونکہ استعماری ماڈل میں ترقی کا مطلب صرف بڑے بڑے سرمایہ داروں کی ترقی ہے۔ اس لیے اس ماڈل میں غریبوں سے متعلق سیکٹرز کی ترقی کا کوئی وژن نہیں ہے۔ زراعت ہمارے ملک میں ایک زمانہ میں 80 فیصد لوگوں کی معیشت کا ذریعہ تھی۔ حکومتی پالیسیوں ہی کے نتیجہ میں لوگ زراعت چھوڑ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود نصف سے زائد ہندوستانی اب بھی زراعت پر منحصر ہیں۔ پالیسیوں کارخ ایسا ہے کہ زراعت میں کوئی ترقی نہیں ہورہی ہے۔ 2007-2008 میں ہمارے جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 9 فیصد سے زائد تھی جبکہ زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح محض 4 فیصد تھی جوگذشتہ سال(2008-09) گھٹ کر صرف1.8 فیصد رہ گئی۔
زراعت کی حوصلہ شکنی اور خاص طور پر غریب کسانوں کی کمر توڑ نے کے مختلف طریقے استعمار کے پاس موجود ہیں۔ زرعی شعبوں میں ترقیاتی اخراجات میں کمی، کھادوں وغیرہ کو دی جانے والی سبسٹڈیز میں تیزی سے گراوٹ، غذائی اشیاء کی درآمد، اجناس میں مستقبل کی تجارت (Futures) کی اجازت، بیجوں اور کھاد کی مارکیٹ میں بین الاقوامی کمپنیوں کی اجارہ داری کے لیے راہ ہمواری، وغیرہ چند اہم پالیس اقدامات ہیں جن پر حکومت 1991 سے عمل پیرا ہے اور جنہوں نے ہماری زراعت کی کمر توڑ نے میں اہم رول ادا کیا ہے۔زراعت کی حوصلہ شکنی کا آغاز قرضوں سے ہوتا ہے۔ی
زرعی اور دیہی معیشت کو فروغ دینے کے لیے آزادی کے کچھ سالوں بعد،ریزرو بنک نے بنکوں کو یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ جملہ جاری کردہ قرضوں کا 40 فیصد ترجیحی سیکٹرز کے قرض خواہوں کو جاری کیا جائے۔
|
|
|
|
|
|
|