سرمایہ دارانہ استعمار کے اہم اور بنیادی نعروں میں سے ایک’’ ترقی ‘‘کا نعرہ ہے۔ وہ دنیا کے تمام غریب ممالک کو ترقی، ڈیولپمنٹ یا گروتھ کا خواب دکھاتا ہے۔ ترقی کا مطلب یہ بتایا جاتا ہے کہ ملک کی مجموعی دولت بڑھے۔ بیرونی تجارت بڑھے۔ صنعتیں قائم ہوں اور پیداوار میں اضافہ ہو ۔شہر پھلے پھولیں۔ خوبصورت ہشت رو سڑکیں بنیں۔ جگمگاتے شاپنگ مال اور فلک بوس عمارتوں کی تعمیر ہو ۔ایر پورٹ بنیں۔ اسٹاک، مارکیٹ کا حساس اشاریہ بڑھے۔ لوگ زیادہ خرچ کرنے لگیں اور پر آسائش زندگی گذارنے لگیں۔پارٹیاں ہوں ، ہوٹلیں آباد ہوں، شہروں کی رونق میں اضافہ ہو۔ وغیرہ
استعمار کے نزدیک اسی مصنوعی چکا چوند کا نام ’ترقی‘ ہے۔ اس ترقی کے لیے وہ ضروری قرار دیتا ہے کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو بے لگام چھوڑ دیا جائے۔ تجارت، صنعت اور سرمایہ کو کسی قانون کا پابند نہ بنایا جائے۔ حکومت کا رول محدود ہو۔ وہ محض تجارت اور صنعت کو سہولتیں فراہم کرنے کا کام کرے۔ غریبوں کی مدد کرنا بند کردے۔ رعایتیں نہ دے۔ سماجی کاموں میں خرچ نہ کرے۔ اور ان ساری ’’فضول خرچیوں‘‘ سے بچے ہوئے پیسے کو انفرااسٹرکچر یعنی روڈ، ایئر پورٹ وغیرہ بنانے میں خرچ کرے۔  سرمایہ دارنہ نظام کے پروردہ ماہرین معاشیات ’ترقی‘ کی تعریف ہی ملک کی مجموعی دولت اور تجارتی وصنعتی سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر کرتے ہیں۔