بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے۔ اقدار اور اخلاق کے تصورات میں بھی بڑی تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں۔ آج ایک مسلمان لڑکی کو بھی کال سینٹر کے ماحول میں رات کی شفٹ میں کام کرنے میں کوئی تکلف نہیں ہوتا۔ آئی ٹی کے مراکز شہروں میں ہمارے نوجوانوں کے لئے کسی خاتون ساتھی کے ساتھ سنگل بیڈ روم فلیٹ میں رہائش اختیار کرنے میں کوئی قباحت باقی نہیں رہی۔ شادی کے بغیر شادی شدہ جوڑے کی طرح رہنا Live-in Relationship کواب کیریئر کی ایک ضرورت ، باور کرایاجارہا ہے۔ اگر انگریزی جریدوں میں شائع ہورہی سروے رپورٹوں پر بھروسہ کیا جائے تو شہری ہندوستان کے اخلاقی نظام میں ایک بڑی تبدیلی آرہی ہے۔
تعلیم:
تعلیمی نظام بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ تعلیم کے بڑھتے پرائیویٹائزیشن کی وجہ سے ملٹی نیشنل تعلیمی ایمپائرز کے زیر قیادت جاری مہنگی تعلیم صرف امیر خوشحال طبقوں کے لئے مختص ہے۔ پالیسی ساز منصوبہ بند طریقوں سے دو طرح کے متوازن نظامہائے تعلیم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ایک ایم اے ایم ایس سی کی طرز کی سادی تعلیم جو سرکاری کالجوں میں دی جاتی رہے گی اور جس میں غریب اور دیہی ونیم شہری علاقوں کے طلبہ پڑھیں گے اور دوسرے بڑے شہروں کے خوشحال طبقات کے لئے معیاری تعلیم، جس کی تکمیل کے بعد ہی ہر طرح کے مواقع حاصل رہیں گے۔
تعلیم سچائی کی آزادانہ تلاش، کی صلاحیت سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ اب تعلیم کا مطلب محض ماقبل داخلہ کا رپوریٹ ٹریننگ ہے جس کے ذریعہ بچوں کو دو تین سال کی عمر ہی سے کارپوریٹ ایمپائر کے وفادار خادم کی حیثیت سے تیار کیا جاتا ہے۔ اب تعلیم ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے جس سے نفع کمانا ہے۔ ایک تجارت جس میں داخل ہونے والا اول روز سے ان حسابات (Calculations) کے ساتھ داخل ہوتا ہے کہ اسے ڈگری پر کتنا خرچ کرنا ہوگا اور نتیجتاً اس کے بعد اسے کتنا ’منافع‘ حاصل ہوگا۔