آؤ ایک نئے تمدن کا خواب دیکھیں
اللہ کے رسول ﷺ کی سنت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپؐ نے قائم شدہ سماجی ڈھانچوں کو بیک وقت ڈھادینے کی مصنوعی کوشش نہیں فرمائی۔ اسلام کے نشانے کے مطابق سماجی تبدیلی کے لیے آپ نے تدریجی راستے اختیار کیے۔ ان میں سے بعض کا تدریجی سلسلہ تو آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا اور آپ کی وفات کے ایک عرصے بعد مطلوب مقاصد حاصل ہوئے۔
اس ذیل میں فی الحال دو مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ غلامی کو اسلام نے پسند نہیں کیا ہے۔ اور غلامی کی رسم کا خاتمہ اسلام کا مطلوب و مقصود رہاہے۔ اس بات پر بڑی حد تک اتفاق ہے۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے وصال تک بھی غلامی کو ممنوع قرار نہیں دیا۔ اس لیے کہ برسوں پرانی اس رسم کی جڑیں سماج میں کافی گہری تھیں۔ چاہے یہ اسلام کے مزاج و منشا کے خلاف ہو لیکن فوری اس رسم کا خاتمہ سماجی ڈھانچہ میں عملی دشواریوں کا سبب بن سکتا تھا۔ اس لیے آپﷺ نے غلامی اور غلام بنانے کے عمل کی کراہیت لوگوں کے مزاجوں میں پیدا کردی اور ایسے اقدامات کو رائج کیا جن کے نتیجے میں پہلے غلاموں کا مقام و مرتبہ بڑھا، پھر دھیرے دھیرے خود بخود غلامی کی رسم اسلامی معاشرہ سے ختم ہوگئی۔ یہاں تک کہ اسلامی تہذیب، دنیا کی پہلی غلامی کی رسم سے پاک تہذیب بن گئی۔
اسی طرح اسلام کا مطلوب و مقصود بنی آدم کی مساوات اور نسلی و قبائلی تفریقات کا خاتمہ رہا ہے۔ دنیا کے تمام انسانوں کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل رہیں، یہاں تک کہ سالم مولیٰ ابوحذیفہ کو خلافت کے منصب پر فائز کیا جاسکے۔ اول روز سے یہ اسلام کا ہدف رہا ہے۔ لیکن عرب کے قبائلی نظام میں آدمی کی اثر انگیزی، شخصی وجاہت اور رعب و دبدبہ کا اس کے نسلی و قبائلی پس منظر سے گہرا تعلق ہوتا تھا، اگر اول روز ہی سے مساوات کے اصول کو سختی سے نافذ کیا جاتا اور کسی کمزور قبیلہ کے باصلاحیت آدمی کو بھی سربراہ بنادیا جاتا تو شاید نو خیز اسلامی مملکت کا نظام و انصرام ہی ممکن نہ ہوپاتا۔ اس لیے ایک عرصہ تک امامت کے لیے قریشیت کی شرط رہی۔ لیکن اسلامی تعلیمات نے دھیرے دھیرے مسلمانوں کے قومی مزاج میں ایسی تبدیلی پیدا کی کہ بعد کے ادوار میں ترک، بربر، ایرانی حتی کہ غلام بھی اسلامی ممالک کے سربراہ بنے اور اسلامی معاشروں نے انہیں خوش دلی سے قبول بھی کیا۔