ہمارے حکمران اور پالیسی ساز دولت کے ان کرشماتی مظاہروں کے آگے حیرت کا سمندر بنے رہے۔ چکاچوند نے ان کی آنکھیں خیرہ کردیں ۔ اس واقعہ کے اخلاقی وسماجی اثرات پر نظر ڈالنے کا انہیں موقع ہی نہ مل سکا۔ وہ لبرلائزیشن کے اصل استفادہ کنندگان یعنی خوشحال شہری طبقہ پر اپنی نظروں کو مرکوز کرکے ’فیل گوڈ‘ کی کیفیت میں جیتے رہے۔ اس صورتحال نے ایک نئی تہذیب اور ایک نئے طرز زندگی کو جنم دیا۔ اور سماج کے ہر طبقہ کو متاثر کیا۔ زیر نظر مضمون میں لبرلائزیشن کے عمل کے نوجوانوں پر اثرات کا جائزہ مقصود ہے۔
گلوبلائزیشن کے بلاشبہ مثبت پہلو بھی ہیں۔ راست بیرونی سرمایہ کاری (F.D.I) بہت سے ملکوں میں غربت کم کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ ہندوستان میں بھی آئی ٹی، آؤٹ سورسنگ وغیرہ میں بے شمار ملازمتوں کو پیدا کرکے اس نے سماج کے ایک طبقہ میں امید و خوشحالی کی نئی جوت جگائی ہے۔ لیکن دنیابھر میں اس پر ،اس کے زیادہ وسیع نقصانات کی وجہ سے تنقید بھی کی گئی ہے۔ ہرجگہ اس نے معاشی عدم مساوات کو بڑھایا ہے۔ اور کثیر لوگوں کی پریشاں حالی اور افلاس کی قیمت پر قلیل لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔
عدم مساوات :
گزشتہ دہے میں ہمارے ملک میں سماجی ومعاشی ثقافت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کا بہاؤ صرف شہروں میں رہا جو ہندوستان کی جملہ آبادی کے بہت چھوٹے حصہ کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہ بہاؤ پھر صرف چند شعبوں تک محدود رہا اور اس کے نفع پانے والے شہری خوشحال طبقہ کی ایک چھوٹی سی اقلیت تک محدود رہے۔ ہندوستانی عوام کی اکثریت کے لئے زندگی پہلے جیسے ہی بلکہ بدسے بدتر ہوتی گئی۔
گلوبلائزیشن نے ایک کے بعد دیگرے، ہر حکومت کو مجبور کیا کہ وہ عوام کی نہایت بنیادی ضرورتوں سے منھ موڑیں۔ اب صاف پانی کی فراہمی، غریبوں کے لئے سستے مکانات کی فراہمی، شہری غریبوں کیلئے صفائی کا مناسب انتظام ، دیہی علاقوں میں پائپ کے پانی اوربجلی کی فراہمی وغیرہ جیسے رفاہی کام، حکومت کی ترجیحات میں نہیں رہے۔ ہماری معاشی پالیسیوں کا واحد مقصد یہ رہا کہ بڑی کمپنیوں کے لئے جو شعبے نفع بخش ہیں، ان میں بیرونی سرمایہ کاری کے لئے ممکنہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔