حاصل کلام یہ کہ گلوبلائزیشن کے مسئلہ کا حل سہ نکاتی ہے۔ اصل طویل المیعاد حل عقائد (Beliefs) اور قدروں (Values) کے نظام کی تبدیلی ہے یعنی گلوبلائزیشن اسلامی عقائد اور اسلامی قدروں کے ذریعہ منضبط ہو۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر اسلامی دعوت، اور اہلِ اسلام کی صلاحیت و قوت کے اعتبار سے اس حد تک ترقی کہ وہ گلوبلائزیشن کے پروسیس کے قائد (Leader) اور منضبط کار (Regulator) بن جائیں۔ ان دونوں امور کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔اس کوشش کے دوران وقتی ازالۂ نقصان (Damage Control) تدابیر، کے تحت پہلا کام بڑے پیمانے پر عوامی بیداری اور متبادل طرز ہائے زندگی کا فروغ ہے اور دوسرا کام تخلیقی اور قابل عمل آئیڈیاز کے نفاذ کے لیے سیاسی دباؤ کی کاوشیں ہیں۔

زیر نظر مضمون صرف ان اشارات کا متحمل تھا۔ ان میں سے ہر اشارہ کے سلسلے میں غوروفکر اور آئیڈیاز کے ارتقاء کا کام ہونا چاہیے اور بیرونی دنیا میں ان محاذوں پر جو تجربات ہورہے ہیں ان سے واقفیت ہونی چاہیے۔ اگر قارئین دلچسپی لیں تو یہ سلسلہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

ترقی یا تنزّل[L:151]؟

ضیاء الدین سردار نے اپنی کتاب ’’Touch of Midas‘‘ کا آغاز ایک دیو مالائی داستان سے کیا ہے۔ مِداس کو دیوتاؤں نے خوش ہوکر پیش کش کی کہ وہ جو مانگے گا اسے دے دیا جائے گا۔ اس نے خواہش کی کہ اس کے اندر ایسی صلاحیت پیدا کردی جائے کہ وہ جس چیز کو ہاتھ لگائے وہ سونے کی ہوجائے۔ اس کی دعا قبول ہوگئی۔ لیکن جلد ہی یہ نوبت آگئی کہ وہ کھانے کو ہاتھ لگاتا، وہ سونا ہوجاتا، پانی سونا ہوجاتا، بیوی سونا ہوجاتی۔

سردار نے کہا ہے کہ جدید سائنس اور ترقیات بھی ایسی ہی ایک نعمت۔ یہ گویا مِداس کا مس (Touch of Midas) ہے کہ ہر طرح کی آسائشیں تو مل جاتی ہیں لیکن ہوا، پانی، غذا جیسی بنیادی ضرورتیں فنا ہوجاتی ہیں۔

گلوبلائزیشن کا اصل ہدف یہ ہے کہ ترقی (ڈیولپمنٹ یا پروگریس) کا مغربی ماڈل ساری دنیا میں عام کیا جائے۔ اس ترقی کا مطلب کیا ہے؟ جدید معاشیات کی کتابیں اس سے بھری پڑی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فی کس آمدنی بڑھے، جی ڈی پی بڑھے، ملک کی مجموعی دولت میں اضافہ ہو۔لوگوں کی صرف کرنے (Consumption) کی صلاحیت بڑھے۔ اس کے نتیجے میں مصنوعات کی مانگ بڑھے، مانگ کی تکمیل کے لیے پروڈکشن بڑھے۔ پروڈکشن کے لیے انفرااسٹرکچر ترقی کرے۔ یعنی کشادہ ہشت رو سڑکوں کی تعمیر ہو۔ بڑے بڑے باندھ بنائے جائیں۔ بڑے میٹروپولیٹن شہر بسیں، ایئر پورٹ بنیں، کمیونی کیشن ترقی پائے، شاپنگ مال اور فلک بوس عمارتیں بنیں وغیرہ۔

پھر گلوبلائزیشن کی کارفرما قوتوں کا یہ بھی اصرار ہے کہ یہ سب ان کے معیارات اور ان کے پیمانوں کے مطابق ہی ہو۔ علاج معالجہ ان کی مرضی کے مطابق، ان کے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے ذریعہ ہو۔ تعمیراتی کام کی نگرانی ان کے انجینئرز کریں۔ ان کے معاشی مشیر ہوں۔