سید سعادت اللہ حسینی
گلوبلائزیشن اوراس کے اثرات
شاید اس بات سے کم ہی لوگ اختلاف کریں کہ نرسمہاراؤ حکومت کی معاشی آزاد کاری Liberalisation کی پالیسیاں آزاد ہندوستان میں عوامی سطح پر سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والی حکومتی پالیسی تھی۔ گرچہ یہ محض ایک معاشیاتی فیصلہ تھا لیکن دنیا کے دیگر لبرلائزڈ معاشروں کی طرح اس نے ہندوستان میں بھی ہرشعبۂ زندگی کو متاثر کیا۔
۱۹۹۰ء میں جیسے ہی معاشی لبرلائزیشن کا اعلان ہوا ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ملک میں اپنے کام شروع کئے۔ ہندوستان نے ایک بڑا بازار انہیں فراہم کیا۔ یہاں آئی ٹی اور سروس کمپنیوں کے لئے باصلاحیت افرادی قوت کا بڑا ذخیرہ دستیاب تھا۔ مصنوعاتی کمپنیوں کے لئے صارفین کی بڑی عظیم تعداد موجود تھی جبکہ آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے لئے نہایت سستی خدمات حاصل تھیں۔ چنانچہ کمپنیوں نے ہندوستان میں داخلہ کے لئے قطار لگا دی۔
اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں ایک نئے انقلاب کا آغاز ہوا۔ ہندوستان کے شہروں میں دولت ابلنے لگی۔ تفریحی مراکز اور نگاہوں کو خیرہ کرنے والے شاپنگ مالوں نے ہمارے شہروں کی چکاچوند میں بے نظیراضافہ کردیا۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون نے ہمارے خوشحال طبقہ کو دنیابھر سے جوڑ دیا۔ سڑکیں چوڑی ہونے لگیں۔ ہوائی جہازوں کی ریل پیل بڑھ گئی ۔ شہروں کے باہر فارم ہاؤسوں اور آرام گاہوں (Resorts)کی ایک نئی دنیا آباد ہوگئی۔ ہندوستان کے شہر، ہندوستان میں رہتے ہوئے بھی ’ہندوستانی‘ نہیں رہے۔