ذہن سازی

۲۔ ذہن سازی
میڈیا کا دوسرا اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ عوام کی ذہن سازی کرے ۔ان کی رائے ، طرز عمل اور رویوں کو ملکی و  قومی ضروریات کے مطابق تبدیل کرے ۔سماج کے اہم اور سلگتے ہوئے مسائل پر حکومت اور عوام کی توجہ مبذول کرے۔دور حاضر کاکارپوریٹ میڈیا جو سرمایہ دارانہ استعمار کا سب سے طاقتور آلہ ہے وہ استعمار کے مفادات کے تحت غلط باتوں پر عوام کی ذہن سازی کرتا ہے،انہیں خوشی سے معاشی غلامی پر آمادہ کرتا ہے۔یہ ذہن سازی اتنی چابکدستی اور مہارت سے کی جاتی ہے کہ متاثرین بڑی خوشی اور فخر کے ساتھ زہر ہلال کو بھی آب حیات سمجھ کر استعمال کرنے لگتے ہیں۔یہ مختلف دلائل کے ذریعہ سرمایہ دارانہ استعمار کے ظلم کو justify   کرتا ہے۔نئے نئے نعرے اور القاب کو متعارف کرواتا ہے۔پروپگنڈے کے ذریعہ اپنے دشمنوں کے خلاف نفرت و عداوت کے شعلوں کو بھڑکاتا ہے۔اپنی پسندیدہ شخصیات اور اداروں کے لیے عوام کے دلوں میں ہمدردی اور حمایت کے جذبات کو پروان چڑھاتا ہے، ان کے قد کو مصنوعی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔اور ناپسندیدہ شخصیات ، اداروں اور پالیسیوں کے متعلق بدگمانی پیدا کرتا ہے اور ان کے وقار کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ استعماری میڈیا کا ہی کارنامہ ہے کہ اپنی سرزمین پردشمنوں کے تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کو دہشت گردوں کا خطاب عطا ہوتا ہے اور غاصب و ظالم اسرائیل پرامن ملک قرار پاتا ہے۔
عراق پر حملے کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے صدام حسین کی شخصیت کو امریکہ، مغربی دنیا،جمہوریت اور انسانیت کا دشمن مشہور کیا گیا۔ پورا عالمی میڈیاعراقی عوام کی ہمدردی میں راگ الاپنے لگا۔ صدام حسین کی فوج نیشنل گارڈ کو دنیا کی طاقتور ترین اور اعلیٰ درجہ کی ایسی ماہر فوج قرار دیا گیا جو بہترین اسلحہ اور اعلیٰ ترین صلاحیتوں کی حامل ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔عراق کے خلاف امریکہ کی خلیجی جنگ کو میڈیا کے ماہرین نے میڈیا کی جنگ قرار دیا ہے۔ایسی جنگ جو صرف میڈیا نے لڑی اور اسی میڈیا کی مدد سے امریکہ نے عربوں سے کھربوں ڈالربھی وصول کئے اور ان کے سروں پر مسلط بھی ہوگیا۔

 
کارپوریٹ میڈیا  
میڈیا کے مقاصد  
 معلومات کی فراہمی  
ذہن سازی  
تفریح کی فراہمی  
میڈیا اور اشتہارات  
میڈیا کا اسلامی نظریہ  
اصلاح کی تدابیر