گلوبلائزیشن کے زیر اثرآزاد معاشی نظام کے غلبہ کے بعد دیگرکئی ممالک میں اسی ماڈل کو اپنایا جارہا ہے ۔جس کے نتیجے میں میڈیا پر سے حکومت کا کنٹرول کم سے کم ہوگیا ہے اور ریاست کا چوتھا ستون ملک اور عوام کی خدمت کے بجائے مٹھی بھر سرمایہ داروں کی خدمت میں مصروف ہوگیا۔ 1990 میں ہندوستان نے آئی ایم ایف، اور ورلڈ بینک جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباو میں اپنے دروازے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے کھول دیے۔ چونکہ ہندوستان 30  کروڑ ناظرین کے ساتھ دنیا کا ایک بڑا سٹلائٹ ٹی وی مارکٹ ہے چنانچہ بین الاقوامی ٹیلی ویژن کمپنیاں اس مارکٹ پر قبضہ کرنے کے لیے بڑی تیزی سے ہندوستان میں داخل ہوئیں اور ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے حصہ پر آج انہیں کمپنیوں کا قبضہ ہے۔
ذرائع ابلاغ میںاستعماریت کا ایک اورمظہر یہ ہے کہ بڑی اور طاقتور میڈیا کمپنیوں کی طاقت کے مقابلے میں کمزور اور چھوٹے ممالک تک اپنی شناخت سے محروم ہورہے ہیں ۔ جس طرح خدمات اور مصنوعات کے میدان میں بڑی بڑی کمپنیوں کے داخلے کے بعد مقامی کمپنیاں یا تو بند ہورہی ہیں یا انہیں یہ بڑی کمپنیاں نگل رہی ہیں اورجس طرح ریلائنس مارٹ ، وال مارٹ جیسی ریٹیل کمپنیوں کی آمدکے بعد مقامی سطح کی چھوٹی چھوٹی دوکانوں کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے اسی طرح میڈیا کی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے داخلے کے بعد اس میدان میں کام کرنے والی چھوٹی چھوٹی کمپنیاں مجبوراً یاتو بند ہورہی ہیں یا ان بڑی کمپنیوں میں ضم ہورہی ہیں۔
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ چند مٹھی بھر سرمایہ داروں کی ملکیت ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد رکھنے کا اور خانگی میڈیا کاتصوربنیادی طور پر غلط نہیں ہے۔اس سے صحت مند مسابقت پیدا ہوتی اور حکومت کی غلطیوں پر نگاہ بھی رکھی جاسکتی تھی۔ لیکن تشویشناک بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی تمام کمپنیاں بتدریج صرف چند بڑے سرمایہ داروں کی ملکیت بنتی جارہی ہیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا پر 10 سے بھی کم ملٹی نیشنل میڈیا کمپنیوں کا قبضہ ہے۔

 

 
 
کارپوریٹ میڈیا  
میڈیا کے مقاصد  
 معلومات کی فراہمی  
ذہن سازی  
تفریح کی فراہمی  
میڈیا اور اشتہارات  
میڈیا کا اسلامی نظریہ  
اصلاح کی تدابیر