|
قدر بے شرمی کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں کہ انہیں گھر میں افراد خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا نہیں جاسکتا۔ان اشتہارات سے سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں۔
میڈیا کا اسلامی نظریہ
اسلام نے زندگی کے تمام معاملات میں انسانوں کی اصولی رہنمائی فرمائی ہے۔یہ دین ہر زمانے کے حالات میںانسانوںکے لیے ہدایت کا سامان فراہم کرتا ہے۔قرآن و حدیث کے اور اسلامی تعلیمات کے مطالعہ سے ہمیں موجودہ دور کے اس اہم شعبہ یعنی میڈیا کے متعلق بھی اصولی ہدایات ملتی ہیں ۔ذیل میں ان اصولی باتوں کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے جن پر عمل کرنے سے میڈیا بلاشبہ انسانیت کی فلاح و بہبود ، امن و خوشحالی، ترقی و کامرانی کا ایک نہایت اہم مفید ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ابتدا میں بتایا گیا کہ میڈیا کا بنیادی مقصد لوگوں کو معلومات فراہم کرنا،ان کی رہنمائی کرنا اور ان کو تفریح فراہم کرنا ہے۔ان تینوں وظائف کی انجام دہی میں ان اصولوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
۱۔ صحت خبر : خبروں اور معلومات کی ترسیل سچائی اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ کوئی ایسی خبر نہ پھیلائی جائے جس کی صحت اور صداقت کے بارے میں اطمینا نہ ہو،جھوٹی باتیں اور افواہیں نہ پھیلائی جائیں،حقیقت کی تلاش و تحقیق کی جائے۔ قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِن جَاء کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیْبُوا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْن ﴿۶﴾
ے لوگو جو ایمان لائے ہواگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہونچا بیٹھو اور پھراپنے کیے پر پشیمان ہو۔ (سورہ الحجرات ) ۲۔ حق کونہ چھپایا جائے : اس سلسلے میں یہ بات بھی سامنے رہنے چاہیے نہ صرف صحیح خبریں نشر کی جائیں جھوٹی افواہیں نہ پھیلائی جائیں بلکہ حق کو چھپانے سے بھی گریز کیاجائے۔قرآن میں شہادت کو نہ چھپانے کا حکم دیا گیا ہے اور شہادت کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ کسی مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہو کر گواہی دی جائے بلکہ شہادت کا صحیح مفہوم ہے کہ آدمی جس حق سے آگاہ ہے دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کرے اور چھپائے نہیں ۔قرآن میں فرمایا گیا ہے :
|