| |
سرمایہ دارانہ استعماراپنے مقاصد کے حصول کے لئے جن وسائل کو استعمال کرتا ہے ان میں ’میڈیا‘سب سے طاقتور وسیلہ ہے۔عام طور پر سرمایہ دارانہ استعمار کی خدمت میں مصروف میڈیا کے لئے ’کارپوریٹ میڈیا ‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔’کارپوریٹ میڈیا ‘سے مرادمیڈیا پروڈکشن ،میڈیاڈسٹری بیوشن،میڈیاکی ملکیت اورمیڈیا میں سرمایہ کاری کا ایک ایسا نظام ہے جس پر تجارتی اداروں کا غلبہ ہوتا ہے۔ یہ سرمایہ کاروں،حصص داروںاور مشتہرین کے مفادات اور ان کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع کی فراہمی کے اصول پر کام کرتا ہے۔عوامی مفادسے اس کو کوئی غرض نہیں ہوتی۔اور یہی میڈیا عوام کی رائے پر سب سے زیادہ اثر انداز بھی ہوتا ہے۔
ذرائع ابلاغ کا آغازدراصل انسان کی فطری جبلتوں کے تحت ہواہے ۔انسان ایک سماجی وجود رکھتا ہے۔ زندگی کی بقا اور ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جان و مال کا تحفظ کرے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ ہمیشہ اپنے اطراف کے احوال سے باخبر رہنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔اس کے علاوہ انسان میںفطری طور پر جستجو کا مادہ بھی پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ دن رات نئے نئے حالات و واقعات کی تلاش میں رہتا ہے۔ دنیا کی یہ ساری ترقی اور تہذیب و تمدن کی تمام رنگارنگی انسان کی اسی فطری جبلت کی مرہون منت ہے۔تاریخ کے ہر دور میںمختلف انسانی گروہوں اور صاحب اقتدار لوگوں کو ان تمام واقعات و حالات کو جاننے سے دل چسپی رہی ہے جن کا تعلق نہ صرف ان کی بقا، فلاح یا مفادات سے ہوبلکہ دیگر اقوام کے حالات سے بھی ہو۔اس مقصد کے لئے بادشاہ اپنے سفرا،ہرکارے ،جاسوس اور تیز رفتار سوارمقرر کرتے تھے ۔ جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی ان ذرائع میں بھی ارتقا ہوتا گیا۔چھپائی اور خبررسانی کے فن اور ان دونوں کے باہمی ربط سے واقفیت کے ساتھ ہی انسان کے اندر یہ خواہش ہی نہیں بلکہ تڑپ پیدا ہوگئی کہ مختلف علاقوں کے بدلتے ہوئے نئے نئے حالات جلد سے جلد معلوم کرلیے جائیں۔چھپائی اور خبررسانی کے فن کے امتزاج سے فن صحافت کا آغاز ہوا پھر ان میں ابلاغ کے برقیاتی ذرائع ریڈیو، ٹیلی ویژن شامل ہوئے اس طرح ذرائع ابلاغ کا ایک پورا سسٹم وجود میں آیاجس کو آج ہم عرف عام میں میڈیا کہتے ہیں۔آج کامیڈیا ماضی کے مقابلے میں ہزاروں گنازیادہ تیز رفتار ہوچکا ہے۔رفتہ رفتہ اس کی اہمیت اتنی بڑھ گئی کہ ماہرین سیاست اس کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دینے لگے۔ غیر جمہوری ممالک میں ذرائع ابلاغ کا نظام حکومت کے کنٹرول میں ہوتا ہے اور انہیں وہ اپنے اتتدار کو برقرار رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔جبکہ جمہوری ممالک میں ذرائع ابلاغ کے نظام کا ڈھانچہ ، اس پر کنٹرول کا طریقہ اور اس کے ضوابط ملک کے مجموعی مفادات کو سامنے رکھ کر تشکیل دئیے جاتے ہیں۔امریکہ وہ پہلا ملک ہے جہاں میڈیا مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول سے آزاد ہے اور امریکہ کے ذرائع ابلاغ پر دو درجن سے بھی کم سرمایہ دار کمپنیوں کا قبضہ ہے ۔ |
|
|
|