اسلام کے نزدیک یہ ساری کائنات اللہ تعالی نے بنائی اور اس میں کوئی چیز بیکارنہیں بنائی۔
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّار۔(آل عمران۔ٔ۱۹۱)
(ائے میرے رب تونے کوئی چیز بیکار نہیں بنائی۔)
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا بَاطِلاً ذَلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَوَیْْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنَ النَّارِ (ص ۔۲۷)
(ہم نے آسمان اور زمین کو اور جواسکے درمیان ہے اسکو بیکارنہیں پیدا کیاہے۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیاہے۔ ۔ اور ایسے کافروں کے لئے بربادی ہے جہنم کی آگ سے ۔
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَیْْنَہُمَا لَاعِبِیْن۔مَا خَلَقْنَاہُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُونَ (الدخان ۔ ۳۸،۳۹)
(اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اِن کے درمیان ہے اسے محض کھیلتے ہوئے نہیں بنایا ہم نے دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے)
قرآن مجید اس بات کی بھی وضاحت کرتاہے کہ یہ پوری کائنات اور اسکی ہر چیز ایک منصوبہ کیساتھ اور توازن کے ساتھ بنائی گئی۔
وَالسَّمَاء رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ ۔أَلَّا تَطْغَوْا فِیْ الْمِیْزَانِ۔(الرحمٰن ۷،۸)
(آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی۔ اس کا تقاضہ ہے کہ تم اس میں خلل نہ ڈالو۔)