قرآن مجید کہتاہے کہ اس کائنات کا اصل مالک خدائے واحد ہے جو اپنی ذات میں یکتا اور وحد ہ لاشریک ہے۔ کائنات کی ہر چیز حتی کہ انسان کا جسم اور اس کا مال بھی اصلاً اللہ رب العزت کی ملکیت ہے۔
قُل لِّمَنِ الْأَرْضُ وَمَن فِیْہَا إِن کُنتُمْ تَعْلَمُون۔سَیَقُولُونَ لِلَّہِ قُلْ أَفَلَا تَذَکَّرُونَ(المومنون ۔ ۸۵،۸۴)
(کہو کہ زمین اور جوکچھ اس میںہے (سب) کس کی مِلک ہے، اگر تم (کچھ) جانتے ہو۔ وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ (سب کچھ) اللہ کا ہے، (تو) آپ فرمائیں: پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتے)
انسان کو اس کائنات کے ایک حصہ میں تصرف کا حق دیا گیا ہے اور چیزیں اس کے لئے مسخر کی گئی ہیں۔
وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ جَمِیْعاً مِّنْہُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لَّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُون (الجاشیہ ۔ ۱۳)
(اور اْس نے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اپنی طرف سے (نظام کے تحت) مسخر کر دیا ہے، بیشک اس میں اْن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں)
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُم مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلَی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلا (بنی اسرائیل ۔ ۷۰)
(اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا)