|
قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ رہا ہے اس میں سے ہر نعمت کے بارے میں انسان مسؤل ہے ۔
وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْم (الانعام۔(165)
اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے۔
یہ اساسی تصورات کائنات کے وسائل کے سلسلہ میں زبردست احساس ذمہ داری پید ا کرتے ہیں۔ اور انسان ویسا شتر بے مہار نہیں رہتا جیسا مغربی دنیا کے انسان نے اپنے آپ کو سمجھ لیاہے۔ یہ احساس ذمہ داری انسان کو مجبور کرتاہے کہ وہ وسائل کائنات کے استعمال میں احتیاط و توازن سے کام لے۔
اسلام صرف یہ تصور ذہن نشین کرانے پر اکتفا نہیں کرتا۔ بلکہ ان تصورات کی بنیاد پر ماحولیاتی اخلاق کی ایک پائیدار عمارت کھڑی کرتاہے۔ اور اخلاقی اور قانونی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے انسان کو پابند کرتاہے کہ وہ اس زمین پرذمہ دارانہ رول ادا کرے ۔ ان اخلاقی و قانونی تعلیمات کا خلاصہ ذیل کی سطروں میں دیا جارہا ہے۔
|