اوزون کا شگاف  

اللہ تعالیٰ نے زمین کے اطراف اوزون گیس کی ایک سطح پیدا فرمائی ہے۔ اوزون کی یہ سطح ایک چھلنی کا کام کرتی ہے۔ سورج سے روشنی او رحرارت کو زمین پر آنے دیتی ہے لیکن خطرناک بالائے بنفشی شعاعوں Ultraviolet Rays کو جو، سورج سے روشنی اور حرارت کے ساتھ خارج ہوتی ہیں، روک دیتی ہے۔
یہ بالائے بنفشی شعاعیں انسان ، حیوان اور نباتات کے لیے سخت نقصاندہ ہیں۔ انسانی جلد کے خلیوں کو یہ سرطان زدہ Cancerous بنا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ انسانوں میں مدافعتی نظام Immune System کو کمزور کرکے بہت سی دیگر بیماریوں کا ذریعہ بنتی ہیں۔
بالائے بنفشی شعاعوں سے موتیا (Cataract) کی شکایت بڑھنے کے واقعات بھی نوٹ کئے گئے ہیں۔(۱)
نباتات میں یہ لہریں ان کی افزائش کو متاثر کرتی ہیں۔ چاول اور دیگر کئی پودے نائٹروجن کی ضروریات ایک مخصوص بیکٹریا Cyanobacteria سے پوری کرتے ہیں جو ان کی جڑوں میں پایا جاتا ہے۔ بالائے بنفشی لہریں اس بیکٹریا کو ختم کر دیتی ہیں۔ ا س سے یہ فصلیں پوری طرح خراب ہوسکتی ہیں۔(۲)

مذکورہ گرین ہاؤز گیسیں اور خاص طور پر ایر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرس سے خارج ہونے والی کلو رو فلور وکاربن گیس مذکورہ اوزون سے تعامل کر کے اس میں شگاف پیدا کردیتی ہے۔