ماحولیاتی بحران کو روکنے کی کوششیں اور استعمار کی مزاحمت  

چونکہ ماحولیاتی بحران ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق ساری بنی نوع انسان کی بقا سے ہے۔ اس لیے یہ عالمی سیاست کے ایجنڈے میںنمایاں طور پر شامل رہا ہے۔ ماحولیاتی سائنسداں اور ماحولیاتی تحریکیں پوری شدت سے حکومتوں کو مسئلہ کی حساسیت کا احساس دلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میںکئی عالمی کانفرنسوں میںیہ مسئلہ زیر بحث رہا ہے۔
عالمی تجارت پر حاوی سرمایہ داراور ان کے مغربی آقا ہمیشہ ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالتے رہے ہیں جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔ اس کی ایک  نمایاں مثال کیوٹو معاہدہ اور اس کے سلسلہ میں مغربی ممالک کا طرز عمل ہے۔
کیوٹو معاہدہ ایک نہایت پیچیدہ معاہدہ ہے۔ جس کے تحت گرین ہاؤز گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف مختلف ممالک کو دیے گئے ہیں۔ اگر کوئی ملک اپنے طئے شدہ ہدف سے زیادہ گیس خارج کرتا چاہے تو اسے کسی پڑوسی ملک سے ہدف ۔۔’’خریدنا‘‘ ہوگا۔ یعنی رقم دے کر اسے آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ ان گیسوں کے اخراج میںاس کے حصہ کی کمی اپنے حصہ میں لے لے تاکہ عالمی سطح پر اخراج کا تناسب برقرار رہ سکے۔یعنی رقم دینے والے ملک کے ہدف کا ایک حصہ رقم لینے والا ملک پورا کرے۔