اس صورتحال کا بنیادی سبب ۔’’تکاثر ‘‘ ہے یعنی زیادہ سے زیادہ کی ہوس۔ نظام سرمایہ داری اس تکاثر کو فروغ دیتا ہے۔بڑی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ منافع کے لالچ میںاپنی پیداوار بڑھانا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے وہ اشتہارات، بازاروں کی چکا چوند، لالچ اور ہوس کو جلا دینے والی ترغیبات اور دیگر ذرائع اختیار کرکے لوگوں کے اندر حد سے زیادہ فضول خرچی کا رجحان پروان چڑھاتی ہیں۔ نتیجتاً لوگ اپنی حقیقی ضرورت سے کہیں زیادہ صرف کرنے لگتے ہیں۔ اس اسراف کے نتیجہ میں اور کمپنیوں کی جانب سے حد سے زیادہ پرڈکشن کے نتیجہ میں، توانائی، پانی اور دیگر قدرتی وسائل کا ضیاع ہوتا ہے۔ جنگلات کٹتے ہیں۔ اور فضا اور پانی میں زہریلی گیس اور دیگر آلودگیاں خارج ہونے لگتی ہیں۔ اس طرح یہ تکاثر پوری دنیا بنی نوع انسان کے لیے ہلاکت کا ذریعہ بن رہا ہے۔
الھٰکم التکاثر۔(تکاثر نے تم کو ہلاک کر دیا) (قرآن، تکاثر ) 300 ہارس پاور کی ایک کار (مثلاً مرسڈی (272 Bhp اتنی ہی کاربن ڈائی اکسائیڈ خارج کرتی ہے جتنی 300 گھوڑوں کی ایک فوج خارج کرتی ہے۔ موٹر اور گیس انڈسٹری اشتہارات کی چکا چوند اور لائف اسٹائل کے گلمیر سے لوگوں کو آمادہ کرتی ہے کہ گھر کا ہر فرد کار استعمال کرے اور وہ بھی زیادہ ہارس پاور والی مہنگی کار۔
گیلن (تقریباً 375 لیٹر) گیسلو لائین کا استعمال سے جو کاربن ڈائی اکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اسے جذب کرنے کے لیے ایک بڑے تناور درخ کو ایک سال درکار ہوتاہے۔