جدید سرمایہ دارانہ استعمار نے انسانیت کو جو تباہ کن تحفے دئیے ہیں ان میں ایک نمایاں تحفہ ’’ماحولیاتی بحران‘‘ ہے۔مادہ پرستی، حرص وہوس اور تعیشات پر مبنی سرمایہ دارانہ طرز زندگی نے گذشتہ صدیوں میں جو ماحولیاتی تباہیاں مچائی ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ آج بنی نوع انسان کی بقاء کو ہی سخت خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ہماری فضاء زہر آلود ہوچکی ہے۔ پانی کے ذخائر تباہ ہوچکے ہیں۔ ہماری غذائیں طرح طرح کی آلودگیوں سے متاثر ہو کر صحت بخشنے کی بجائے نت نئی بیماریاں فروغ دے رہی ہیں۔ اگر صورت حال اسی طرح بگڑتی رہی تو ہم اپنی اگلی نسلوں کے لیے ایک ایسی دنیا چھوڑ کر جائیں گے کہ جس میں نہ ان کے لیے صحت بخش کھانا میسر ہوگا نہ صاف پانی اور نہ سانس لینے کے لیے فرحت بخش ہوا۔

یہ انتہائی حیرت ناک المیہ ہے کہ اب بھی جب کہ تباہی کے آثار بہت نمایاں ہوکر سامنے آگئے ہیں، سرمایہ دارانہ قوتیں اس کے سد باب کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ ہوس اور لالچ کی انتہا ہے کہ ہمارے عہد کا ظالم سرمایہ دارانہ انسانیت کی تباہی کی قیمت پر اپنی تجارت کی ترقی چاہتا ہے۔

ماحولیاتی بحران کے نتیجے میں ایک طرف گلو بل وارمنگ، تبدیلی موسم، فضائی وآبی آلودگی جیسے مسائل پیدا ہورہے ہیں تو دوسری طرف قدرتی وسائل کی شدید قلت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ تیسری طرف حیوانات ونباتات کی بے شمار انواع ختم اور ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ ان مسائل کا دیر پا نقصان تو پوری انسانیت کو پہنچ رہا ہے لیکن فوری اور شدید نقصان کا سامنا دنیا کے غریب عوام کو ہے۔