|
مسلمان زمین پر اللہ کا خلیفہ اور وسائل کائنات کا امین ہے۔ اس حیثیت سے ماحولیاتی بحران کے خلاف سب سے طاقتور آواز مسلمانوں کی جانب سے ہی بلند ہونی چاہیے تھی اور مسلمانوں کو صحیح طور پر ماحولیاتی تحریک کا علم بردار ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان نہ صرف اس مسئلہ سے غافل ہیں بلکہ ماحولیاتی بحران پیدا کرنے میں شریک بھی ہیں۔ عام مسلمان اس مسئلہ سے پوری طرح غافل ہیں۔ علماء ، خطباء اور دینی تحریکیں اسے ایک دینی واسلامی مسئلہ کی حیثیت سے پیش کرنے کے لیے تیار نہیں اور اسلامی ممالک اس مسئلہ پر قائد انہ رول ادا کرنے کے لیے آمادہ نہیں ۔
گذشتہ چند برسوں میں بعض جگہوں پر خصوصا مغربی ممالک کی اسلامی تحریکوں میں اس مسئلہ کے تئیں بیداری آئی ہے۔ اسلامک فاؤنڈیشن فار اینورونمنتل ایند اکولوجیکل اسٹڈیز IFEESآئی اینوائرو I Enviroاور لندن اسلامک نیٹ ورک فار دی اینوا ئرونمنٹ جیسے ادارے اسلامی نقطہ نظر سے ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کررہے ہیں کناڈا میں اسلام پسند نوجوانو ں کی تنظیم ینگ مسلم نے فیتھ آف لائفFaith of life کے نام سے ایک پروجیکٹ انہی مقاصدکی خاطر شرو ع کیا ہے ۔ اس کے تحت Waste diversionیعنی مسلمان آبادیوں اور مساجد سے کچرے کو ماحولیاتی اعتبار سے صحیح طریقوںسے ری سیکل کرنے کی مہم شروع کی گئی ۔ آرگنک افطار کے نام سے ایسی غذاؤں کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے جو ماحولیاتی نقطہ نظر سے درست ہوں۔ ہمارے ملک میں کیرالہ میں اسلام پسند نوجوانوں کی تنظیم سالڈریٹی"Solidarity" نے کئی ایسے بڑے منصوبوں کو اپنی احتجاجی تحریک کے ذریعہ رکانے میں کامیابی حاصل کی ہیجو ماحول کے لیے سخت نقصاندہ تھے ۔
|