ماحولیاتی بحران اور دنیا کے غریب عوام  

ماحولیاتی بحران کا اثر سب پر پڑتا ہے۔ لیکن غریب عوام اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ فلٹر والے ایر کنڈیشنرز کا، گھروں، دفتروں ،کاروں، شاپنگ مالوں وغیرہ میں استعمال عام ہوگیا ہے۔ نتیجتاً ایک امیر آدمی کا فضائی آلودگی سے واسطہ کم پڑتا ہے۔ ایک غریب آدمی روز زہریلی فضاء میں سانس لینے پر مجبور ہے۔

 رات دن ائیر کنڈیشنر میں رہنے و الوں کو آسمان سے باتیں کرتے ہوئے درجہ حرارت کا پتہ کم ہی چلتا ہے۔ اس درجہ حرارت میں جلتا بھی غریب آدمی ہی ہے۔ امیروں کے لیے تعیشات تیار کرنے والی کمپنیا ںجو فضلات پانی میں خارج کرتی ہیں، اسے پی کر بیمار پڑنا ور مرجانا بھی غریب آدمی ہی کی مجبوری ہوتی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں سے قحط سالی پیدا ہوتی ہے۔ زراعت پر سب سے زیادہ دیہی اور غریب عوام کا انحصار ہوتا ہے۔ ان خشک سالیوں نے صرف ودربھا کے علاقہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار کسانوں کی جانیں لے لی ہیں۔ (۳)قحط سالی مہنگائی پیدا کرتی ہے۔ غذائی اجناس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ اور غریب عوام فاقہ کشی اور بھوکے مرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔