گذشتہ دوتین صدیوں کی صنعتی سرگرمی کے نتیجہ میں اوزون لہر میں گہرا شگاف پید اہوچکا ہے۔ 2006 میں اس شگاف کے رقبہ کا اندازہ تقریبا 29 ملین مربع کیلو میٹر کیا گیا تھا۔ یہ شگاف بڑھتا جارہا ہے۔اس شگاف کے ساتھ پوری اوزون لہر بھی باریک ہوتی جارہی ہے۔ 70 کے دہے سے اوزون کے حجم میں 4% فی دہائی کے اوسط سے کمی واقع ہوتی جارہی ہے ۔ (۳
پانی ہوا کے بعد انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ دنیا میں ہر سال ڈھائی کروڑ لوگ آلودہ پانی کے استعمال سے ہونے والی بیماریوں سے مرتے ہیں۔ 18 لاکھ بچے ہر سال صرف ڈائیریا سے مرتے ہیں۔ پانی کی بیماریوں کی وجہ سے دنیا میں بچوں کی 44.5 کروڑ اسکولی ایام ضائع ہوتے ہیں۔
دنیا کی 20% غریب ترین عوام میںصرف 25% عوام کو نل کے پانی کی سہولت دستیاب ہے۔ کسی بھی وقت ترقی پذیر دنیا میں نصف سے زیادہ آبادی پانی سے متعلق کسی نہ کسی مرض میںمبتلا رہتی ہے۔(۱ )
عام طور پر اس صورتحال کے لیے بڑھتی ہوئی آبادی کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ اس کے لیے امیر غریب کی تفریق، بڑی کمپنیوں کی ہوس اور فضول خرچی جیسے عوامل ذمہ دار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک سے تعلق رکھنے والے دنیا کے 20% امیر ترین لوگ دنیا کے پانی کا 85% استعمال کرتے ہیں۔(۲)
|