(I) عنوان:۔’’ ملک بچاؤ ۔۔غلامی اور غریبی سے ’’کل ہند سرمایہ دارانہ سامراجیت مخالف مہم ۔
(II) تاریخیں:۔۱۱ !ڈسمبر تا ۲۱!ڈسمبر ۲۰۰۹ء ۔
(III) مقاصد:۔ (۱) سرمایہ دارانہ استعمار کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا ۔
(۲) غریبی ، نا انصافی، اور ظلم کو سرمایہ دارنہ استعمار کے نتیجہ کے طور پر زیر بحث لانا ار اس کے اسباب حل پر روشنی ڈالنا ۔
(۳)اسلام کو نظام سرمایہ داری کے متبادل کے طورپر پیش کرنا۔
(IV) مبحث:۔
(۱) سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ آگے اور انسان پیچھے ہے ۔ اسلام مینں انسان کو اولیت حاصل ہے سرمایہ انسان کا خادم ہے ۔
(۲) سرمایہ دارانہ نظام صرف دولت کی پیداوارمیں معاون ہے ۔ دولت کی تقسیم اور سارے بنیادی اقتصادی سوالات میں فیصلہ کن رول مارکیٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔
(۳)سرمایہ شئے Commodity نہیں ہے بلکہ محض وسیلہ ہے ۔
(۴) قلیل المدت سرمایہ کاری Short term capital اور Speculative Capital پر تنقید ۔
(۵) سود اور سودی نظام پر تنقید ۔
(۶) فقرو فاقہ ،عالمی غذائی بحران ، اشیائے ضروریہ کی قلت اورمہنگائی اس سرمایہ دارانہ نظام کا نتیجہ ہے ۔
(۷)SEZ ، STZ اور حکومت کی معاشی پالیسیاں بھی اسی نظام کا حصہ ،اور عوام کے لیے نقصاندہ ہیں ۔
(۸)صارفیت Consumerism اورفضول خرچی کا مزاج اسی نظام کا پیدا کردہ اور اسے تقویت پہنچانے کاذریعہ ہے۔
(۹)اس نظام کی دین ماحولیاتی بحران ہے۔اسلام کی تعلیم فطرت سے ہم آہنگی اورتوازن کی ہے۔
(۱۰)تہذیبی جارحیت بھی سرمایہ دارانہ استعمار کا نتیجہ اور اسکے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔
(۱۱)غیر انسانی ترقیاتی پالیسیاں ماحول دشمن اور نظام سرمایہ داری کوفروغ دینے والی ہیں۔
(۱۲)عالمی سرما یہ دارانہ استعمار کیوجہ سے ملک کی خودمختاری خطرے میں ہے۔
(۱۳)فوجی جارحیت قبضہ ،ظلم ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اسی نظام کے ہتھیار ہیں ۔
(۱۴)ان سب کیفیتوں کا سب سے زیادہ نقصان پسماندہ طبقات مثلاً دیہی عوام ، کسان، غربا، نیزخواتین اور نوجوانوں کو پہنچ رہا ہے ۔
(۱۵)ان میں سے ہر مسئلہ کے سلسلہ میں بطور حل اسلام کی متعلقہ تعلیمات پیش کی جائیں گی۔ اور اسلام کی اُن مخصوص خصوصیات کواجاگر کیا جائے گا جو سرمایہ دارانہ نظام ، اشتراکیت اور دیگر غیر الہٰی نظاموں سے ممیز ہیں۔
(
11